آیتِ کریمہ ﴿وجعل القمر فيهن﴾ کی تفسیر:
Question
چاند پر پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں اور
﴿وجعل القمر فيهن﴾
سے معلوم ہو تا ہے کہ چاند آسمانوں میں ہے حالانکہ بظاہر بہت نیچے ہے؟
Answer
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
چاند پر انسان پہنچ سکتا ہے یہ اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں ہے لہذا امریکہ کے خلا باز اگر یہ دعوی کرتے ہیں تو اس کے ماننے میں شرعی لحاظ سے کوئی حرج نہیں ہے چاند بھی خدا کی مخلوق ہے چاند تک پہنچنے کی سمجھ بھی ان کو خدا پاک نے دی ہے یہ بھی ایک کرشمۂ خداوندی ہے، خدا پاک نے شیطان مردود کو اس سے بھی زیادہ قوت عطا فرمائی ہے وہ پل بھر میں کہاں سے کہاں پہنچتا ہے خدا ہی نے اس کو ستاروں تک پہنچنے کی طاقت دی تھی، اسی طرح خدا پاک دجال کو بھی حیرت انگیز طاقت دیں گے کہ چند لمحات میں دنیا کا سفر کرے گا حضرت سلیمان عليہ السلام ہوائی سفر کیا کرتے تھے، حضرت سلیمان عليہ السلام کے ایک وزیر نے جس کو کتاب الہی کا علم تھا یہ کرامت دکھائی تھی کہ پلک جھپکنے سے پہلے بلقیس کا شاہی تخت لا کر حاضر کر دیا تھا اگر امریکہ کے خلا باز چاند پر جا کر ریت اور پتھر لے آئے تو اس میں کیا تعجب ہے کہ ایسے کام جانور (ہد ہد) وغیرہ بھی کر چکیں ہیں ۔
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ چاند پر رسائی اس لیے محال ہے کہ چاند آسمان پر ہے اور وہاں فرشتوں کی نگرانی ہے اور دلیل میں یہ آیت قرآنی پیش کرتے ہیں:
﴿تبارك الذي جعل في السماء بروجاً وجعل فيها سراجاً وقمراً منيراً﴾
اسی طرح
﴿وجعل القمر فيهن نوراً وجعل الشمس سراجاً﴾
مذکورہ بالا آیات میں ہے کہ خدا نے چاند، سورج وغیرہ آسمانوں میں بنائے ہیں، لیکن آسمانوں کا مفہوم بہت وسیع ہے، عربی میں جو چیز بلندی پر ہو اس کو سماء (آسمان) کہا جاتا ہے:
أريد بالسماء السحاب فإن ما علاك سماء (بيضاوي، ص ۲٦)
مفردات القرآن میں ہے: "
سماء كل شيء أعلاه"
یعنی ہر شی کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے، قرآنی زبان و اصطلاح میں سماء کا اطلاق "جو" یعنی آسمان سے نیچے کی فضا اور سحاب پر بھی ہو تا ہے، قرآن میں ہے:
﴿وأنزلنا من السماء مائً﴾ و ﴿وأنزلنا من السماء ماء ً طهوراً﴾
حالانکہ بظاہر بارش کا پانی بادلوں سے زمیں پر برستا ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:
﴿وأنزلنا من المعصرات مائً ثجاجاً﴾
یعنی ہم نے پانی سے بھرے بادلوں سے موسلا دھار مینھ برسایا، ان آیات میں بادلوں کے لیے لفظ سماء لا یا گیا، اسی طرح اس فضا اور جو کے لیے بھی لفظ سماء لایا گیا جہاں آیاتِ سابقہ نمبر ۱، ۲ کے بموجب چاند اور سورج ہیں یعنی اس فضا میں معلق ہیں اس لیے فرما دیا گیا
﴿جعل فيها سراجاً وقمراً منيراً﴾.
تفسیر حقانی میں ہے:
"السماء"
چند معانی میں مستعمل ہو تا ہے، افق کو بھی سماء کہتے ہیں بادل کو بھی سماء اور آسمان کو بھی، اصل میں سماء کا اطلاق اوپر کی چیز پر ہو تا ہے خواہ وہ بادل ہو، خواہ آسمان ہو، اس جگہ
﴿وأنزلنا من السماء مائً﴾
میں بادل مراد ہے، کیونکہ بارش وہیں سے نازل ہو تی ہے، اور آسمان مراد لینا بھی ممکن ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۳
/
۲۲۵)
جدید سائنس کی تحقیق:
جدید سائنس کی تحقیق یہ ہے کہ چاند، ستارے وغیرہ آسمان کے نیچے ہیں اوپر نہیں اس کی تائید حضرت ابن عباس رضي اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے "
إن النجوم قناديل معلقة بين السماء والأرض بسلاسل من نور بأيدي ملائكة"
یعنی بے شک ستارے آسمان اور زمیں کے درمیاں معلق ہیں نوری زنجیروں میں اور یہ زنجیریں نوری فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں ۔ (روح المعانی: ۳۰/ ۵۰، و تفسیر کبیر سورہ تکویر: ٦۷) ۔
اس روایت کے بعد علامہ آلوسی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ظاہر ہے کہ ستارے وغیرہ آسمانوں میں مرکوز نہیں جیسا کہ قدیم فلاسفہ کا کہنا ہے بلکہ وہ اس فضا میں معلق ہیں ۔ (روح المعانی:
۳۰
/
۵۰
) ۔
اور اسی سے جدید اہل سائنس کی تائید ہو تی ہے جو قائل ہیں کہ ستارے وغیرہ کشش کی طاقت کے ذریعہ معلق ہیں،
وظاهر هذا أن النجوم ليست في جرم أفلاك لها كما يقول الفلاسفة المتقدمون، بل معلقة في فضاء ويقرب منه من وجه قول الفلاسفة المحدثين فإنهم يقولون بكونها في فضاء أيضاً لكن بقوي متجاذبة. (روح المعاني: ۳۰/۵۰ ا).
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
اہل اسلام میں سے بعض کی تحقیق یہ ہے کہ آفتاب اور ستارے آسمان میں گڑے ہوے نہیں ہیں، بلکہ وہ خلا میں قائم ہیں اور اسی خلا میں جو ان کا مدار حرکت ہے وہی ان کا فلک ہے ۔ (تکمیل الیقین، ص
۲١۱
) ۔
حضرت ابن عباس رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"الفلك السماء والجمهور على أن الفلك موج مكفوف تحت السماء تجري فيه الشمس والقمر والنجوم". (مدارك التنزيل: ۲/۷۸).
ومثله في تفسير روح المعاني: "موج مكفوف تحت السماء يجري فيه الشمس والقمر". (تفسير روح المعاني: ۱۷/٤۰).
وفي التفسير الكبير للرازي: قال عطاء: وذلك أنها في قناديل معلقة بين السماء والأرض بسلاسل من النور. (التفسير الكبير: ۳۱/٦۲).
قرآن کی بعض آیاتِ کریمہ سے مفہوم ہو تا ہے کہ چاند وغیرہ آسمان کے نیچے کے حصہ میں ہیں ۔ سورۂ والصفات:
﴿إنا زينا
السماء الدنيا بزينة الكواكب﴾
یعنی بے شک ہم نے زینت بخشی ہے قریب کے آسمان کو ستاروں کے ذریعہ اور سورہ حم سجدہ اور سورۃ الملک میں ہے:
﴿زينا السماء الدنيا بمصابيح﴾
ان آیتوں میں لفظ
﴿السماء الدنيا﴾
قریب کا آسمان غور طلب ہے، بظاہر آسمان کے نیچے کا حصہ یا نیچے کی فضا مراد ہے یعنی جس طرح چھت میں قندیل لٹکا ہوا ہو تا ہے اور اس سے چھت کی آراستگی ہو تی ہے ایسے ہی آسمان کے نیچے چاند، سورج، ستارے آویزاں ہیں، جن سے سقفِ آسمان آراستہ ہو رہی ہے، سائنس کی ترقی سے مسلمانوں کو خائف یا حیرت زدہ نہ ہو نا چاہیے، سچ کبھی شکست نہیں کھا تا، سائنس جوں جوں ترقی کر رہی ہے اسلامی اعتقادات، معجزات و کرامات کی تائید و تقویت ہو رہی ہے ۔ (ماخوذ از فتاوی رحیمیہ: ۳/ ۲۲٦ ۔ ۲۲۹) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۵/ ۳۳۵، و احسن الفتاوی: ۱/ ٤۱)
آیتِ کریمہ: "
فيهن"
کے مراجع سے متعلق ملاحظہ ہو:
﴿وجعل القمر فيهن نوراً﴾ منوراً لوجه الأرض في ظلمة الليل وجعله فيهن مع أنه في إحداهن وهي السماء الدنيا كما يقال زيد في بغداد وهو في بقعة منها. (روح المعاني: ۲۹/۷۵).
معلوم ہوا کہ "
فيهن"
سے مراد "
في بعضهن"
ہے اور سماء دنیا سے بظاہر نیچے کا آسمان یا نیچے کی فضا مراد ہے، اگر "
فيهن
" کا مطلب یہ ہو کہ چاند آسمانوں کے درمیاں ہے جیسے خود زمیں آسمانوں کے درمیاں ہے اور آسمان چاند پر محیط ہے تو یہ بھی صحیح ہے کیونکہ فی کے معنی بین کے بھی آتے ہیں جیسے
﴿فادخلي في عبادي﴾ "أي بين عبادي"
اور اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کسی فٹ بال کو کھلاڑیوں کے سات صفوں کے درمیاں رکھ دیں اور وہ ارد گرد بیٹھے ہو ں تو یہ لفظ صحیح ہو گا کہ "
كرة القدم في صفوف اللاعبين أي بين صفوفهن"
پھر چاند فضا میں ہو گا اور اوپر نیچے آسمان ہوں گے یا سماء سے مراد جو فضا ہو گی یعنی چاند فضاؤں میں معلق ہے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/105
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-105