زیر ناف بال صاف کرتے وقت شہوت سے منی خارج ہونے سے روزہ کا حکم:
Question
ایک شخص روزہ کی حالت میں زیر ناف بال کی صفائی کر رہا تھا کہ شہوت ابھری اور منی خارج ہو گئی تو کیا روزہ فاسد ہوا یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں روزہ فاسد ہو گیا اور قضا واجب ہے، کیوں کہ منی خارج کرتے وقت ہاتھ لگایا ہو گا، اور ہاتھ لگانے سے شہوت کے ساتھ منی خارج ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ولوالجیہ میں ہے:
الصائم إذا عالج ذكره حتى أمنى يجب عليه القضاء هو المختار، لأنه وجد الجماع معنى. (الفتاوى الولوالجية: ۱/۲۱۸، فيما يفسد صومه وفيما لا يفسد، بيروت)
البحر الرائق میں ہے:
قالوا: الصائم إذا عالج ذكره حتى أمني يجب عليه القضاء وهو المختار، كذا في التجنيس والولوالجية، وبه قال عامة المشايخ، كذا في النهاية. (البحر الرائق: ۲/۲۷۲، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، كوئته).
احسن الفتاوی میں ہے:
ہاتھ سے منی خارج کرنا بہت سخت گناہ ہے، حدیث میں اس پر لعنت وارد ہوئی ہے، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا واجب ہے کفارہ نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ٤/٤۴۵، بحوالہ شامی، استمناء بالید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1084
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1084