مزدور مجبوری میں افطار کر لے تو قضا اور کفارہ کا حکم:
Question
ایک شخص ماہِ رمضان میں سخت کام کی مزدوری کر رہا تھا، مالک چھٹی نہیں دیتا تھا، اتنی شدید پیاس لگی کہ برداشت سے باہر جس میں ہلاکت یا پاگل پن کا خطرہ تھا اس نے افطار کر لیا تو اس پر قضا اور کفارہ ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور پر صرف قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں، اس لیے کہ سخت مجبور تھا، اور حالتِ مجبوری میں افطار کرنے سے کفارہ لازم نہیں ہوتا ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
الأعذار التي تبيح الإفطار
ومنها العطش والجوع كذلك، إذا خيف منهما الهلاك أو نقصان العقل كالأمة إذا ضعفت عن العمل وخشيت الهلاك بالصوم وكذا الذي ذهب به موكل السلطان إلى العمارة في الأيام الحارة إذا خشي الهلاك أو نقصان العقل. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۷. وكذا في فتح القدير: ۲/۲۷۲، دار الفكر).
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو ہلاکت کا خوف یا پاگل ہونے کا خطرہ ہے یا باندی کام کرتی ہے اور ہلاکت کا خوف ہے تو اس کے لیے افطار کی گنجائش ہے اور بعد میں قضا کر لے ۔
نیز عالمگیری میں ہے:
ومنها المرض: المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع وإن خاف زيادة العلة وامتداده فكذلك عندنا وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۷).
بہشتی زیور میں ہے:
اگر ایسی پیاس لگی یا ایسی بھوک لگی کہ ہلاکت کا ڈر ہے تو بھی روزہ توڑ ڈالنا درست ہے ۔ (بہشتی زیور: تیسرا حصہ: ۱۷، باب دہم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1109
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1109