داماد کے ساتھ سفر حج پر جانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #245Urdu

Question

عورت اپنے داماد کے ساتھ سفر حج میں جا سکتی ہے یا نہیں؟

Answer

صورت مسئولہ میں عورت اپنے داماد کے ساتھ سفر حج میں جا سکتی ہے، لیکن فتنہ کا اندیشہ ہو تو نہ جائے، نیز خلوت وغیرہ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

قال الله تعالى: ﴿حرمت عليكم

وأمهات نسائكم﴾.
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنه قال: حرم من النسب سبع ومن الصهر سبع ثم قرأ حرمت عليكم أمها تكم. (رواه البخاري، مشكاة: ۲/۲۷۵).
وفي الشامي: فصل في المحرمات

وأمهات الزوجات. (فتاوى الشامية: ۳/۲۸، فصل في المحرمات، سعيد).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
داماد اپنی ساس کے لیے محرم ہے ان میں ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، فتاوی عالمگیری میں ہے:
القسم الثاني المحرمات بالصهرية: وهي أربع فرق الأولى أمهات الزوجات. (
عالمگیری) مگر آج کل فتنہ کا زمانہ ہے، سسر الی رشتہ سے احتیاط کی ضرورت ہے، خصوصاً جب کہ جوان ہوں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/۲۸۷ ۔ و کذا فی معلم الحجاج: ص ۹۵ ۔ و عزیز الفتاوی: ۳، ٤/۷۵) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
عورت اپنے شوہر، حقیقی بھائی، چچا، ماموں، رضاعی بھائی اور اپنے داماد کے ساتھ حج کو جا سکتی ہے، نیز اپنی لڑکی کی موت کے بعد بھی داماد کے ساتھ حج کو جا سکتی ہے ۔ (ایضاح المسائل: ص ۱۲۳، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.