بغیر محرم کے سفر کرنے پر ایک حدیث سے استدلال کا جواب:
Question
کیا عورت بغیر محرم کے سفر حج کر سکتی ہے یا نہیں؟ جب کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ عورت عراق سے مکہ سفر کرے گی اور صرف اللہ تعالی کا خوف ہوگا ۔
Answer
عورت بغیر محرم کے سفرِ شرعی طے نہیں کر سکتی، شرعاً اس کی گنجائش نہیں ہے، لہذا بغیر محرم کے سفر حج کی بھی اجازت نہیں، اور یہ ممانعت حدیث سے ثابت ہے ۔ (ہاں بعض اکابر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اگر عمر رسیدہ خاتون کے بغیر محرم جانے میں فتنہ نہ ہو، اجنبیوں کے ساتھ اختلاط و خلوت نہ ہو تو اس کے لیے عورتوں کے قافلہ میں جانے کی گنجائش ہے) ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفراً يكون ثلاثة أيام فصاعداً إلا ومعها أبو ها أو ابنها أو زوجها أو أخوها أو ذو محرم منها. (مسلم شريف: ۱/٤۳٤، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره)
سوال میں پیش کی گئی حدیث ملاحظہ فرمائیں:
لترين الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحداً إلا الله. (رواه البخاري: ۱/۵۰۷).
اس حدیث شریف کا جواب یہ ہے کہ اس میں امن و امان بیان کرنا مقصود ہے، عورت کا بغیر محرم کے سفر کا جواز بیان کرنا مقصود نہیں ہے، اس لیے کہ ابتداء حدیث میں نبی کریم ﷺ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ کو پیشین گوئیاں سنا رہے تھے کہ ایسا زمانہ بھی آئے گا اور اتنا امن و امان ہوگا کہ عورت حیرہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کرے گی اور کوئی خوف و ہراس نہ ہوگا سوائے اللہ تعالی کے یعنی ایسا امن و امان ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ نیز ذخیرۂ احادیث میں ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں کہ بیان کرنے کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے اور اصل حکم دوسری جگہ مذکور ہوتا ہے، جس کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
حدیثِ پاک میں آتا ہے:
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله تعالى بكم ولجاء بقوم يذنبون ويستغفرون الله تعالى فيغفر لهم. (رواه مسلم: ۲/۳۵۵، باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبة).
اس حدیث شریف میں کوئی گناہ کی فضیلت بیان کرنا یا گناہ پر ابھارنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ توبہ کتنی محبوب اور مطلوب چیز ہے، اور جہاں تک گناہ کا تعلق ہے تو اس کا حکم دیگر احادیث سے معلوم ہوگا کہ کتنا مذموم اور خطرناک ہے اور اللہ تعالی سے بغاوت کرنا ہے ۔
(اس حدیث کی ایک توجیہ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کے کلام کی روشنی میں یہ ہو سکتی ہے: کہ فتنہ نہ ہونے کی صورت میں عورت کے لیے اکیلے سفر کی گنجائش ہے،
كما سيأتي
) ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عورت کے لیے بغیر محرم کے سفرِ شرعی کی اجازت نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1147
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1147