متمتع کا بغیر احرام کے حج کی سعی کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #300Urdu

Question

ایک شخص نے تمتع میں حلال ہونے کے بعد نفل طواف کیا اور حج کی سعی اس نفل طواف کے بعد کر لی بغیر احرام کے تو کیا حکم ہے؟

Answer

حج کی سعی اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے کرے تو احرام شرط ہے، اور وقوفِ عرفہ کے بعد کرنا ہے تو بغیر احرام کے مسنون ہے ۔ بصورتِ مسئولہ بظاہر وقوفِ عرفہ سے پہلے کی ہے لہذا بغیر احرام کے صحیح نہیں ہوئی دوبارہ کرنا لازم ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں غنیۃ الناسک میں ہے:

الرابع تقديم الإحرام عليه وأما بقاء الإحرام حالة السعي، فإن كان سعيه للحج قبل الوقوف فيشترط، أو بعد الوقوف فلا يشترط، بل ويسن عدمه. (غنية الناسك: ۷۱، فصل في ركن السعي وشرائطه، إدارة القرآن. وص ۱۱۵. والشامي: ۲/۵۱۸، سعيد. ولباب المناسك مع شرحه: ۱۹۳، فصل في شرائط صحة السعي، بيروت).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
حج یا عمرہ کے احرام کا سعی پر مقدم ہونا پس اگر کوئی شخص احرام سے پہلے سعی کرے گا تو جائز و درست نہ ہو گی، لیکن احرام کا حج کے ابتداء میں منعقد ہو جانے کے بعد سعی تک باقی رہنا ضروری نہیں ہے، پس اگر حج کی سعی وقوفِ عرفہ سے پہلے (یعنی طوافِ قدوم کے بعد ) کرے تو احرام کا موجود ہونا شرط ہے خواہ وہ حاجی قارن ہویا متمتع یا مفرد ہو، اگر حج کی سعی وقوفِ عرفات کے بعد (طوافِ زیارت کے بعد ) کرے تواب احرام کا باقی رہنا شرط نہیں ہے کیوں کہ اب اس کو احرام سے حلال ہونے کے بعد سعی کرنا جائز ہے بلکہ اب مسنون یہی ہے کہ احرام سے فارغ ہو کر سعی کرے ۔ (عمدۃ الفقہ: حصۂ چہارم ۱۹۸، شرائط صحتِ سعی، مجددیہ) ۔
معلم الحجاج میں ہے:
تیسری شرط: احرام حج یا عمرہ کا سعی پر مقدم ہونا، اگر کوئی شخص احرام سے پہلے سعی کرے گا تو صحیح نہ ہو گی اگر چہ طواف کے بعد ہو اور احرام کا باقی رہنا سعی تک ضروری نہیں، بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر حج کی سعی کرتا ہے (خواہ قارن ہو یا متمتع یا مفرد) اور وقوفِ عرفہ سے پہلے کرتا ہے تو احرام کا ہونا سعی کے وقت شرط ہے اور اگر وقوفِ عرفہ کے بعد سعی کرتا ہے تو احرام کا باقی رہنا شرط نہیں، بلکہ احرام کا نہ ہونا مسنون ہے ۔ (معلم الحجاج: ۱٦۹، شرائط سعی، ارادۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.