چند بال کاٹ نے سے حلال ہونے کا حکم:
Question
ایک شخص نے حج تمتع کیا، عمرہ کرنے کے بعد صرف چند بال کٹوائے پھر اس کے بعد حج کا احرام باندھا تو اس پر کیا لازم ہے؟ دم ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنے دم؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں متمتع عمرہ سے چند بال کٹوانے کی وجہ سے حلال نہیں ہوا سابقہ احرام باقی ہے، اور چونکہ دو تین دن کپڑے بھی پہنے ہوں گے، اس لیے ایک دم اور ایک صدقہ لازم ہوگا ۔ صدقہ اس لیے کہ حالتِ احرام میں چند بال کاٹے، اور دم اس لیے کہ سلے ہوے کپڑے وغیرہ پہنے، ممکن ہے کہ دوسری جنایات کا بھی ارتکاب کیا ہوگا لیکن تداخل کی وجہ سے صرف ایک دم لازم ہے، اور متمتع کے لیے حج کے افعال شروع کرنے سے پہلے حلق لازم نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:
يبتدئ من الميقات في أشهر الحج فيحرم بالعمرة ويدخل مكة فيطوف لها ويسعى لها ويحلق أو يقصر وقد حل من عمرته.
قال المحشي: قوله "وقد حل من عمرته" ظاهره لزوم الحلق في التمتع وليس كذلك بل لو لم يحلق حتى أحرم بالحج وحلق بمنى كان متمتعاً. (الهداية مع الحاشية: ۱/۲٦۰).
وقال الطحطاوي رحمه الله في حاشيته على الدر المختار: قوله "يحلق" إنما ذكر الحلق لبيان تمام العمرة لا لأنه شرط في التمتع لأنه مخير بينه وبين بقائه محرماً بها إلى أن يدخل إحرام الحج. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۵۱٦، باب التمتع، كوئته).
تداخلِ جنایات کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں غنیۃ الناسک میں ہے:
وإذا اختلف جنس الجناية تعذر التداخل إلا إذا فعلها على قصد رفض الإحرام، فإن المحرم إذا نوى رفض الإحرام، فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد، فعليه دم بجميع ما ارتكب. (غنية الناسك: ۱۲۹، باب الجنايات، إدارة القرآن).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1198
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1198