حج کے بعد تنعیم سے عمرہ کرنے کا حکم:
Question
سعودی عرب میں بعض حضرات پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں اور اس میں لکھا ہوتا ہے کہ حج کے بعد تنعیم سے عمرہ نہ کریں، اور زبانی بھی کہتے ہیں کہ حج کے بعد آنحضور ﷺ اور صحابہ کرام نے عمرہ نہیں کیا، جب کہ ہمارے حضرات بکثرت حج کے بعد عمرے کرتے ہیں اور اس کو باعث ثواب سمجھتے ہیں، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
احناف کے نزدیک حج کے دنوں کے علاوہ پورے سال عمرہ کرنا ثواب کا کام ہے، یعنی ۹ ذی الحجہ سے ۱۳ ذی الحجہ تک عمرہ نہ کرے، باقی سال میں کسی بھی وقت عمرہ ہو سکتا ہے ۔
جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حج سے فارغ ہوئیں تو جو عمرہ ان کے ذمہ باقی تھا اس کی قضا کے لیے تنعیم گئیں، ان کے ساتھ ان کے بھائی عبد الرحمن بھی تھے، اور دونوں نے تنعیم سے ۱٤، ذی الحجہ کی رات کو عمرہ کیا، (بخاری شریف جلد اول، ص ۲۱۲)، آنحضور ﷺ نے عبد الرحمن سے فرمایا کہ اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جا کر عمرہ کرا دے، پھر حضرت عائشہ فرماتی ہیں
"حتى فرغت وفرغ أي عبد الرحمن أيضاً "كما في الشرح" من الطواف ثم جئته بسحر فقال: هل فرغتم" (صحيح البخاري: ۱/۲۱۲)،
نیز بعض روایات میں
"فرغتما"
بھی آیا ہے ۔
مؤطا امام مالک میں مذکور ہے:
كانت عائشة رضي الله تعالى عنها تعتمر بعد الحج من مكة في ذي الحجة ثم تركت بعد ذلك فكانت تخرج قبل هلال المحرم حتى تأتي الجحفة فتقيم بها حتى تري الهلال فإذا رأت الهلال أهلت بعمرة. (الموطأ: ص ۳۸۲).
وفي الأوجز: ولعل ذلك لتحصيل الفصل بين الحج والعمرة امتثالاً لأمر أمير المؤمنين كما سيأتي قريباً في باب العمرة، أفصلوا بين حجكم وعمرتكم فإن ذلك أتم لحج أحدكم ولعمرته أن يعتمر في غير أشهر الحج. (أوجز المسالك: ٦/۵۵۵، دار القلم دمشق).
یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ذی الحجہ میں حج کے بعد عمرہ کرتی تھیں پھر چھوڑ دیا پھر محرم کے چاند ہونے سے پہلے جحفہ آتی تھیں اور وہاں اقامت کر کے محرم کے چاند کے بعد عمرہ کا احرام باندھ لیتیں ۔
اوجز میں ہے: یہ اس لئے تاکہ امیر المؤمنین کے حکم کی اطاعت ہو انھوں نے فرمایا تھا کہ حج اور عمرہ میں فاصلہ رکھو یہ حج اور عمرہ کی تکمیل کے لئے بہتر ہے کہ اشہر حج کے بعد عمرہ کرے ۔
نیز اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ آنحضور ﷺ اور صحابہ
ث
نے حج کے بعد عمرہ نہیں کیا تو ہم بھی نہ کریں تو چونکہ مہاجرین کی جلدی واپسی مطلوب تھی اس لیے وہ جلدی واپس ہوے اور عمرہ نہیں فرمایا، اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ عمرہ نہیں کرنا چاہیے، اگر کوئی یہ ک ہے کہ ۱٤ تاریخ کو سب حاجیوں کی واپسی ضروری ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ
ث
واپس ہوے تھے تو کیا یہ بات قابل تسلیم ہو گی؟ اسی طرح یہ بات بھی قابل تسلیم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں عمرہ نہیں کیا تو ہ میں بھی نہیں کرنا چاہیے، ان کو موقعہ ہی نہیں ملا تھا، اگر آنحضور ﷺ عمرہ فرماتے اور ان کی اتباع میں اکثر لوگ عمرہ کرتے اور ۱٤ کو واپس بھی ہوتے تو کتنی دقت ہوتی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1199
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1199