آمر کے وطن سے حج بدل کرانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #311Urdu

Question

اگر کسی کے ذمہ حج فرض ہے اور اس کا انتقال ہوا وہ ہندوستان میں رہتا تھا اب اگر کوئی شخص اس کی طرف سے بجائے ہندوستان کے جنوبی افریقہ سے حج کرے تو یہ درست ہوگا یا نہیں؟

Answer

آمر کے وطن سے حج کرنا ضروری ہے، جب کہ متروکہ تہائی مال میں گنجائش ہو ورنہ میقات سے پہلے پہلے جس جگہ سے ہو س کے استحساناً وہاں سے کرا دیا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی آمر کے وطن یعنی ہندوستان سے حج کرائے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

شروط الحج عن الغير عشرون

الحادي عشر أن يحج عنه من وطنه إن اتسع، وإلا فمن حيث يبلغ. (فتاوى الشامي:
۲
/
٦۰۰
، مطلب شروط الحج عن الغير، سعيد).

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

قوله من بلده، وإن كان للموصي أوطان حج عنه من أقرب أوطانه إلى مكة، لأنه متيقن به وقوله من بلده محله ما إذا كان له بلد، أما إذا لم يكن له وطن فمن حيث مات بحر. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۵۵۰باب الحج عن الغير، كوئته).

شرح لباب المناسک میں ہے:

الثامن أن يحج عنه من وطنه إن اتسع الثلث أي ثلث مال الميت، وإن لم يتسع أي الثلث يحج عنه من حيث يبلغ، أي استحساناً

لعل المكان مقيد بما قبل المواقيت، وإلا فبأي شيء يمكن أن يحج عنه من مكة، وكذا الحكم إذا أوصى أن يحج عنه بماله وسمي مبلغه، فإنه إن كان يبلغ أن يحج عنه من بلده حج عنه منه وإلا فمن حيث يبلغ. (شرح لباب المناسك: ٤۸۳، فصل في شرائط جواز الإحجاج، بيروت).

احسن الفتاوی میں ہے:
اگر زندہ معذور کے امر سے یا مردہ کی وصیت سے حج بدل کیا جا رہا ہو تو موصی یا آمر کے وطن سے حج کرنا ضروری ہے، اگر ثلث مال نا کافی ہو اور ورثاء زیادہ کی اجازت نہ دیں تو جہاں سے بھی ثلث مال سے حج ہو سکے، اگر موصی یا آمر نے خود کوئی جگہ یا کچھ مال متعین کر دیا ہو تو وہیں سے کیا جائے اگر چہ مکہ ہی سے ہو مگر صاحبِ استطاعت کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے اگر حج کا امر یا وصیت نہیں کی بلکہ کسی کی طرف سے تبرعاً کوئی شخص حج کرنا چاہتا ہے، تو مکہ سے بھی جائز ہے، البتہ صاحبِ استطاعت کے لیے میقات سے کرانا افضل ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۵۱۹ ۔ و عمدۃ الفقہ: ٤/۳٤۹، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.