چچی کو شہوت سے چھونے سے حرمتِ مصاہرت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #400Urdu

Question

ایک شخص کی چچی نے اس پر ہاتھ رکھا یعنی بغیر کسی حائل کے جسم کو مس کیا اور اس شخص کو اس وقت شہوت ہو گئی، تواب اس چچی کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں مس بالشہوت ہونے کی بنا پر حرمتِ مصاہرت ثابت ہو گئی، لہذا اس چچی کی لڑکی سے شادی کرنا جائز نہیں ہے ۔ بشرطیکہ شہوت حرمتِ مصاہرت کی حد تک پہونچ گئی ہو جس کا ذکر آگے آ رہا ہے ۔
شامی میں ہے:

وحرم أيضاً بالصهرية

وأصل ممسوسته بشهوة لأن المس والنظر سبب داع إلى الوطئ فيقام مقامه في موضع الاحتياط، هداية، واستدل لذلك في الفتح بالأحاديث والآثار عن الصحابة والتابعين، قوله بشهوة أي ولو من أحدهما

قوله بلا حائل لا يمنع الحرارة أي ولو بحائل الخ، فلو كان مانعاً لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب، قوله وأصل ما سته أي بشهوة قال في الفتح: وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها، ويقع في أكبر رأيه صدقها. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۳۲، فصل في المحرمات، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

القسم الثاني المحرمات بالصهرية: ــ وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة كذا في الذخيرة،

ثم لا فرق في ثبوت الحرمة بالمس بين كونه عامداً أو ناسياً أو مكرهاً أو مخطئاً كذا في فتح القدير، أو نائماً هكذا في معراج الدراية،

ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقاً لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقاً بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۷٤، ۲۷۵، الباب الثالث في بيان المحرمات).

فتاوی دار العلوم میں ہے:
چچی کا بوسہ اگر شہوت سے لیا ہے تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہو گئی پس زید کو اس کی دختر سے نکاح کرنا کسی طرح درست نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۷/۳٤۱، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اگر لڑکی کے جسم پر کپڑا نہ یا ہو مگر ایسا پتلا ہو کہ جسم کی حرارت محسوس ہو گئی تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۲۵۵) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
جانبین میں سے کسی ایک میں بوقتِ مس شہوت پیدا ہو جائے تو حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۷۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.