ماہِ رجب میں روزہ کا حکم:
Question
ماہِ رجب میں روزہ رکھنے کی کوئی فضیلت حدیث شریف میں آئی ہے یا نہیں؟
Answer
ماہِ رجب میں روزہ کے بارے میں دو قسم کی روایات مروی ہیں (۱) پہلی قسم روزہ رکھنے کی فضیلت میں لیکن تقریباً تمام روایات ضعیف ہیں ۔ (۲) دوسری قسم روزہ رکھنے کی ممانعت والی روایات ۔
پہلی قسم روزہ رکھنے کی فضیلت میں روایات کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
(
۱
) أخرج الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۳۵۲۰) بسنده عن عبد العزيز بن سعيد، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: من صام يوماً من رجب كان كصيام سنة ومن صام سبعة أيام غلقت عنه سبعة أبواب جهنم، ومن صام ثمانية أيام فتحت له ثمانية أبواب الجنة، ومن صام عشرة أيام لم يسأل الله عزوجل شيئاً إلا أعطاه، ومن صام خمسة عشر يوماً نادي منادٍ من السماء: قد غفرت لك ما سلف فاستأنف العمل قد بدلت سيئاتكم حسنات، ومن زاد زاده الله عزوجل، وفي شهر رجب حمل نوح في السفينة، فصام نوح، وأمر من معه أن يصوموا، وجرت بهم السفينة ستة أشهر إلى آخر ذلك لعشر خلون من المحرم.
قلت: إسناده ضعيف، قال الهيثمي في المجمع: وفيه عبد الغفور وهو متروك. وعثمان بن مطر الشيباني ضعيف.
وأيضاً أخرجه في فضائل الأوقات (رقم: ۹) والطبراني في الكبير (٦/٦۹/۵۵۳۸)، والأصبهاني في الترغيب والترهيب (رقم: ۱۸۲۲) وعبد العزيز الكتاني في فضائل رجب والبخاري في الضعفاء.
(۲) صوم أول يوم من رجب كفارة ثلاث سنين، والثاني كفارة سنتين، والثالث كفارة سنة، ثم كل يوم شهر.
أخرجه أبو محمد الخلال في فضائل رجب عن ابن عباس رضي الله عنه كما في الجامع الصغير للإمام السيوطي (۵۰۵۱) ورمز له بالضعف.
(
۳
) وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن في الجنة نهراً يقال له: رجب أشد بياضاً من اللبن وأحلي من العسل من صام من رجب يوماً سقاه الله من النهر.
أخرجه الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۳۵۱۹)، وفي فضائل الأوقات (۸)، وابن حبان في المجروحين (۲/۲۳۸).
قال ابن الجوزي: لا يصح فيه مجاهيل، لا ندري من هم. (العلل المتناهية، رقم: ۹۱۲) وقال الذهبي: والخبر باطل. (الميزان، رقم ۸۷۹۷ في ترجمة منصور بن يزيد).
وللمزيد من البحث راجع: (تبيين العجب بم اورد في شهر رجب للحافظ ابن حجر العسقلاني رحمه الله).
(
٤
) عن سلمان الفارسي رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: في رجب يوم وليلة من صام ذلك اليوم وقام تلك الليلة كمن صام من الدهر مائة سنة وهو لثلاث بقين من رجب وفيه بعث الله محمد اً ﷺ.
أخرجه البيهقي في شعب الإيمان (۳۵۳۰)، وقال: روي ذلك بإسناد آخر أضعف من هذا. وأيضاً في فضائل الأوقات (۱۱)، والديلمي في الفردوس (٤۳۸۱).
قال ابن حجر: هذا الحديث منكر إلى الغاية وهياج هو ابن بسطام التيمي الهروي وروى عن جماعة من التابعين وضعفه ابن معين وقال داود: تركوه وقال الحافظ: الملقب بجزرة منكر الحديث لا يكتب من حديثه إلا للاعتبار ولم أكن أعلمه بهذا حتى قدمت هراة فرأيت عندهم أحاديث مناكير كثيرة وقال الحاكم أبو عبد الله هذه الأحاديث التي رواها صالح من حديث الهياج الذنب فيه لا بنه خالد والحمل فيها عليه وقال يحيى بن أحمد بن زياد الهروي كل ما أنكره على الهياج فهو من جمع ابنه انتهى كلامه. (تبيين العجب، ص ۲۱).
(
۵
) وأخرج ابن الجوزي رحمه الله في العلل المتناهية (۱/۲۲٦/۳۵٦) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: من صام يوم ثماني عشرة من ذي الحجة كتب الله له صيام ستين شهراً
فأنزل الله عزو جل اليوم أكملت لكم دينكم ومن صام يوم سبعة وعشرين من رجب كتبت له صيام ستين شهراً
، قال أبو بكر بن ثابت اشتهر هذا الحديث برواية حبشون وكان يقال إنه انفرد به وقد تابعه عليه أحمد بن عبد الله بن العباس بن سالم المعروف بابن النبري قال: أنا علي بن سعيد الشامي قال أنا ضمرة فذكره مثل ما تقدم أو نحوه. وقال المؤلف: وهذا حديث لا يجوز الاحتجاج به ومن فوقه إلى أبي هريرة رضي الله عنه ضعفاء، ونزول الآية كان يوم عرفة بلا شك وذكر ذلك في الصحيحين.
وأيضاً أخرجه ابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق (٤۲/۲۳۳)، ويحيي بن حسين الشجري في أماليه (۱/۳۱)، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد (۸/۲۸۹/٤۳۹۲).
وللمزيد راجع: (فضائل رجب للخلال، وفضائل رجب لعبد العزيز الكتاني، وتبيين العجب لا بن حجر العسقلاني، والأدب في رجب للملا على القاري، وفضائل الأوقات للإمام البيهقي، وفضائل رجب وشعبان ورمضان للقزويني).
(۲) ممانعت والی روایات ملاحظہ کیجیے:
أخرج الإمام ابن ماجه في سننه (۱۷٤۳) بسنده عن
أنه عليه الصلاة والسلام نهى عن صيام رجب.
إسناده ضعيف جداً، فيه داود بن عطاء؛ قال البخاري وغيره: متروك.
قال الشيخ فؤاد عبد الباقي: في إسناده: داود بن عطاء، وهو ضعيف متفق على ضعفه. (التعليقات على ابن ماجه: ۱/۵۵٤/۱۷٤۳).
وأيضاً أخرجه الطبراني في الكبير (۱۰/۳٤۸/۱۰٦۸۱) وابن الجوزي في الواهيات (۹۱۳) والبيهقي في الفضائل.
ملا علی قاری رحمه الله نے اس حدیث کا یہ جوا ب دیا کہ یہ ممانعت خاص ہے اس صورت کے ساتھ جب کہ رجب کا روزہ واجب سمجھ کر رکھا جائے، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا ۔ (کما فی الادب فی رجب) ۔
بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ کراہت اندیشہ ضعف کی علت کی بنا پر ہے یعنی جو شخص رجب کے روزوں کی وجہ سے کمزور ہو جائے اور رمضان کے فرض روزوں پر قادر نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے رجب و شعبان دونوں کے روزے رکھنا مکروہ ہے ۔ (کما فی روایۃ امالی الشجریہ) ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں چند آثار منقول ہیں:
عن خرشة بن الحر قال: رأيت عمر رضي الله عنه يضرب أكف الناس في رجب، حتى يضعوها في الجفان، ويقول: كلوا، فإنما هو شهر كان يعظمه أهل الجاهلية.
وعن سفيان، عن زيد بن أسلم قال: سئل رسول الله ﷺ عن صوم رجب؟ قال: أين أنتم من شعبان! هذا حديث مرسل رجاله ثقات، لكن كان يحيى القطان يفضل مراسيل معاوية بن قرة علي مراسيل زيد بن أسلم.
وعن أنس رضي الله عنه قال: لا تكن اثنينياً ولا خميسياً، ولا رجبياً. وعن عاصم بن محمد، عن أبيه قال: كان ابن عمر رضي الله عنه إذا رأي الناس وما يعدون لرجب، كره ذلك. (المصنف لا بن أبي شيبة: ٦/۳۳٤، ط: المجلس العلمي).
امداد الفتاوی میں ہے:
چونکہ احتمال تھا کہ بعض لوگ جو رجب کی تعظیم کرتے تھے اور اب مشرف باسلام ہو گئے تھے شاید وہ لوگ یا ان کی دیکھا دیکھی اور لوگ اس طرح کی تعظیم کے قصد سے اس میں روزہ نہ رکھنے لگیں، اس لیے شارع علیہ السلام نے اس کی ممانعت فرما دی، جس طرح بعض احادیث میں صومِ یوم السبت سے نہی آئی ہے، حالانکہ اطلاق سے دلائل و نیز اجماع سے اس کا جواز ثابت ہے، وہاں بھی یہی وجہ ہے کہ یہود کے دیکھا دیکھی تخصیص صوم کو ذریعہ تعظیم نہ بنائیں، اسی طرح صیامِ رجب کی نہی کو سمجھنا چاہیے ۔ پس اس حیثیت سے تو یہ منہی عنہ ٹھہرا ۔ دوسری حیثیت رجب میں صرف شہر حرام ہونے کی ہے، جواس میں بقیہ اشہر حرم میں مشترک ہے، پہلی حیثیت سے قطع نظر کر کے صرف اس دوسری حیثیت سے اس میں روزہ رکھنے کو مندوب فرمایا گیا پس دونوں حدیثوں میں تعارض نہ رہا ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۱۱٦) ۔
حضرت تھانوی رحمه الله ۲۷ رجب کے روزے کے بارے میں فرماتے ہیں:
اس ماہ کی ۲۷ تاریخ میں یہ اعمال مروج ہیں، (۱) روزہ جس کی روایات پر شیخ دہلوی رحمه الله نے ما ثبت بالسنہ میں سخت جرح کی ہے ۔ صرف ایک روایت کو جو کہ ابو ہریرہ رضي الله عنه سے موقوفاً وارد ہے ۔ جس میں اس روزہ کو برابر ساٹھ ماہ کے روزوں کے کہا گیا ہے ۔ شیخ نے سب سے امثل اور غنیمت کہا ہے لیکن پھر بھی ختم روایت پر فرمایا:
فهذه أحاديث ذكرت فيما حضر عندنا من الكتب ولم يصح منها على ما قالوا شيء وغايته الضعف وجلها موضوع
۔ مگر شیخ ہی نے ایک حدیث بروایتِ ابن ابی شیبہ و طبرانی حضرت عمر
رضي الله عنه
سے نقل کی کہ حضرت عمر
رضي الله عنه
صومِ رجب پر لوگوں کے ہاتھوں پر مارتے تھے اور جبراً کھانے میں ڈلواتے تھے ۔ کہ یہ ماہ جاہلیت میں معظم تھا اسلام میں متروک ہو گیا خیر اگر کوئی روزہ ہی رکھے تو ایک تو اس کو حضور ﷺ کا ارشاد نہ سمجھے ۔ ابو ہریرہ
رضي الله عنه كا
سمجھے ۔
دوسرے اس کو ہزاری یعنی ہزار روزہ کے برابر ثواب میں نہ سمجھے کہ اس میں منقول کی تغییر ہے ۔
تیسرے اس کو حدیثِ صحیح کے برابر نہ سمجھے، غایت سے غایت ضعیف سمجھ لے
باقی نفس صومِ رجب بے اصل نہیں ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۱۱۷ ۔ ۱۱۸) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ستائیسویں رجب کے روزہ کو جو عوام ہزار روزہ کہتے ہیں اور ہزار روزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں اس کی کچھ اصل نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، جلد دوم، ص ٤۹۲) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ستائیسویں رجب کے بارے میں جو روایات آئی ہیں وہ موضوع اور ضعیف ہیں، صحیح اور قابل اعتماد نہیں لہذا ستائیسویں رجب کا روزہ عاشوراء کی طرح مسنون سمجھ کر کہ ہزار روزوں کا ثواب ملے گا اس اعتقاد سے رکھنا ممنوع ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ستائیسویں رجب کا روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/۸۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1386
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1386