دانتوں میں سے کھانے کا ریزہ نکال کر کھانے سے روزہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #493Urdu

Question

ایک شخص نے روزے کی حالت میں دانتوں میں سے کھانے کا ریزہ نکال کر کھا لیا یا نکالے بغیر کھا لیا تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا یا نہیں؟ اور کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

(۱) دانتوں میں سے کھانے کا ریزہ یا گوشت کا ریشہ وغیرہ منہ سے نکالے ہوے بغیر دانتوں سے نکال کر کھا لیا تو دیکھنا چاہیے اگر چنے سے کم ہے تو روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو روزہ ٹوٹ گیا صرف قضا ہے ۔ (۲) اور اگر یہ ریزہ یا ریشہ وغیرہ منہ سے نکالا اور پھر کھایا اور نگل لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا چنے سے کم ہو یا زیادہ یا برابر اس میں بھی قضا ہے کفارہ نہیں ۔ (۳) اگر تل کے برابر کسی چیز کو منہ میں خوب چبایا یہاں تک کہ منہ میں گم ہوا اور حلق میں اس کا ذائقہ محسوس نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹا ۔ (٤) اگر کوئی چیز چکھ لی اور اس کا ذائقہ حلق میں پایا لیکن وہ چیز حلق میں نہیں گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا ۔ (۵) اگر تل کھایا تو اصح قول کے موافق کفارہ ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں مرقوم ہے:

وإن أكل ما بين أسنانه لم يفسد إن كان قليلاً وإن كان كثيراً يفسد والحمصة وما فوقها كثير وما دونها قليل، وإن أخرجه وأخذه بيده ثم أكل ينبغي أن يفسد كذا في الكافي وفي الكفارة أقاويل قال الفقيه رحمه الله: والأصح لا تجب الكفارة كذا في الخلاصة، وإذا ابتلع سمسمة بين أسنانه لا يفسد صومه لأنه قليل وإن ابتلع من الخارج يفسد وتكلموا في وجوب الكفارة والمختار أنها تجب إذا ابتلعها ولم يمضغها كذا في الغياثية وفتاوى قاضيخان، وهو الأصح كذا في محيط السرخسي، وإن مضغها لا يفسد إلا أن يجد طعمها في حلقه وهذا حسن جداً فليكن الأصل في كل قليل مضغه كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۲. ۲۰۳، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد).
وللاستزادة انظر: (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦٦۲، قديمي، وفتح القدير: ۲/۳۳۲، دار الفكر، والدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۱۵، سعيد، وتبيين الحقائق: ۱/۳۲٤).
قال في الدر المختار: وأكل مثل سمسمة من خارج يفطر ويكفر في الأصح. (الدر المختار: ۲/٤۱۵، سعيد).

فتح القدیر میں ہے:
وإذا ابتلع السمسمة حتى فسد هل تجب الكفارة قيل لا، والمختار وجوبها لأنها من جنس ما يتغذي به وهو رواية عن محمد رحمه الله. (فتح القدير: ۲/۳۳۳، دار الفكر).
وقال في الدر: إلا إذا أخرجه من فمه فأكله ولا كفارة لأن النفس تعافه، وفي الشامية: قوله لأن النفس تعافه، فهو كاللقمة المخرجة وقدمنا عن الكمال أن التحقيق تقييد ذلك بكونه ممن يعاف ذلك. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۱۵، سعيد).

محقق ابن ہمام رحمه الله نے اس مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا ہے:
والتحقيق أن المفتي في الوقائع لا بد له من ضرب اجتهاد ومعرفة بأحوال الناس وقد عرف أن الكفارة تفتقر إلى كمال الجناية فينظر في صاحب الواقعة إن كان ممن يعاف طبعه ذلك أخذ بقول أبي يوسف رحمه الله وإن كان ممن لا أثر لذلك عنده أخذ بقول زفر رحمه الله. (فتح القدير: ۲/۳۳۳، دار الفكر).
وينظر: (البحر الرائق: ۲/۲۷۲، المكتبة الماجدية، والفتاوى السراجية، ص۱٦۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.