روزہ دار کے بیوی کے ساتھ ہم بستری سے کفارہ کا حکم:
Question
ایک شخص رمضان میں دن کے وقت دبئی سے آیا اس نے سفر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھا تھا دوپہر کو اپنے کمرہ میں آرام کرنے کے لیے گیا جب روزہ دار بیوی اس کے پاس گئی، تو اس نے بوس کنار کے بعد اس کے ساتھ ہم بستری کی شوہر کا روزہ نہیں تھا، بیوی پر قضا ہے یا کفارہ ہے یا دونوں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اگر بیوی نے شوہر کے ساتھ رضامندی سے ہم بستری کی تھی تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں ہیں اور اگر شوہر نے زبردستی کی تھی (زبردستی ابتدا میں ہو یا آخر تک ہو) تو بیوی پر صرف قضا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة وكذا إذا كانت مكرهة في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۵، النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1405
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1405