سراً ان شاء اللہ کہنے سے وقوع طلاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #14Urdu

Question

ایک شخص نے طلاق اس طرح دی کہ ان شاء اللہ آہستہ کہا، مثلا ً یوں کہا: میں تمام لوگوں کے سامنے طلاق دیتا ہوں اور آہستہ ان شاء اللہ کہا، جس کو کسی نے نہیں سنا تو طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ نیز ایک آدمی کو تین طلاق دینے پر مجبور کیا گیا کہ اگر طلاق نہیں دو گے تو مار دیے جاؤ گے، اس نے دباؤ میں آ کر تین طلاقیں دیں، اور چپکے سے ان شاء اللہ کہا، اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ جب کہ یہ ان شاء اللہ کسی نے نہیں سنا، اس نے آہستہ کہا، اور اگر بیوی تسلیم نہ کرے تو کیا حکم ہے؟ دیانۃً و قضاءً کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ طلاق کے ساتھ إن شاء اللہ اس طرح کہا کہ اگر کوئی آدمی اس کے منہ کے ساتھ کان لگا دیتا تو سن لیتا، اور شوہر صالح و متقی ہے تو اس کا قول مع الیمین معتبر ہوگا اور طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ نیز آ کراہ بھی طلاق دل سے نہ دینے کی دلیل ہے ۔
یہ مسئلہ دیانۃً ہے البتہ اگر عورت انکار کر دے کہ ان شاء اللہ نہیں کہا، تو شوہر کا قول بغیر بینہ کے قابل قبول نہ ہوگا ۔
لیکن اگر صرف دل میں کہا اور زبان سے اس طرح نہیں کہا کہ کان لگانے والا سن لے تو استثناء معتبر نہ ہوگا، اور طلاق واقع ہو جائے گی ۔
در مختار میں ہے:

قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلاً

مسموعاً بحيث لو قرب شخص أذنه إلى فيه يسمع. وفي الشامية: (قوله بحيث لو قرب) أشار به إلى أن المراد من المسموع ما شأنه أن يسمع وإن لم يسمعه المنشئ لكثرة أصوات مثلاً. وقوله (مسموعاً) هذا عند الهندواني، وهو الصحيح كما في البدائع، وعند الكرخي ليس بشرط. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۳٦۸).
وفي الشامي عن البحر: والشرط سماعه لا سماعهم على ما عرف في الجامع الصغير. (فتاوى الشامي: ۳/۳۷۰، سعيد).
وفي الدر المختار: ويقبل قوله إن ادعاه وأنكرته في ظاهر المروي عن صاحب المذهب وقيل: لا يقبل إلا ببينة وعليه الاعتماد والفتوي احتياطا لغلبة الفساد، خانية، وقيل إن عرف بالصلاح فالقول له. وفي الشامي: (قوله ان عرف

الخ) قائله صاحب الفتح

قلت: ولا يخفي أن هذا تحقيق للقول الثاني المفتي به لأن المشايخ عللوه بفساد الزمان أي فيكون الزوج متهماً وإذا كان صالحاً تنتفي التهمة فيقبل قوله فلا يكون هذا قولاً ثالثاً فتدبر. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۳٦۹، سعيد).

احسن الفتاوی میں ہے:
استثناء میں یہ تفصیل ہے کہ زوجہ پر بینہ ہے، اگر وہ بینہ نہ پیش کرے تو اگر زوج صلاح و تقویٰ میں معروف ہے تو اس کا قول مع الیمین معتبر ہے ورنہ قول زوج بدون بینہ قبول نہ کیا جائے گا ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۱۹٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (
الفتاوى الهندية: ٦/۳۹٦. وبدائع الصنائع: ۳/۱۵۵. ومنحة الخالق على البحر الرائق: ٤/٤۰. وفتاوى محموديه: ۱۳/۱۵۵. وفتاوى دار العلوم ديوبند: ۹/۱۳۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.