زوجہ کے مطالبہ پر شوہر نے کہا آپ کو مل گئی:

2 min readFatwa Vol 4 #33Urdu

Question

میاں بیوی کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا، اسی دوران بیوی نے کہا مجھے اپنی طلاق دے دو، یا کہا مجھے طلاق مل سکتی ہے، جواب میں شوہر نے کہا، ٹھیک ہے آپ کو مل گئی، پھر بیوی نے پوچھا کہ کیا تین ہیں؟ شوہر نے کہا جی ہاں! تین ہیں، کون سی طلاق واقع ہوئی رجعی یا بائن اور کیا تین واقع ہوئی یا ایک؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں بیوی کے مطالبۂ طلاق پر شوہر نے مطالبہ پورا کر دیا تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی، پھر عدد کے بارے میں دریافت کرنے پر شوہر نے تین کا اقرار کیا تو تین واقع ہوئی، اور عورت مغلظہ ہو گئی، اب بدون حلالہ زوج اول کے لیے حلال نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں عالمگیری میں ہے:

وفي المنتقي: امرأة قالت لزوجها: طلقني، فقال الزوج: قد فعلت، طلقت. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۵٦، إيقاع الطلاق).

فتاویٰ شامی میں ہے:

ذكر الطلاق بلا عدد فقيل له بعد ماسكت كم؟ فقال: ثلاثاً، وقع ثلاث عندهما خلافاً لمحمد رحمه الله

وفي الجوهرة: قال: أنت طالق، فقيل له بعد ما سكت كم؟ فقال: ثلاث، وفي الخانية: ويحتمل أن هذا قول أبي حنيفة رحمه الله فإن عنده إذا طلق واحدة ثم قال: جعلتها ثلاثاً تصير ثلاثاً. (فتاوى الشامي: ۳/۳۰۵، باب الكنايات، سعيد).

التحریر المختار میں ہے:

قوله ويحتمل أن هذا قول أبي حنيفة رحمه الله: يبطل هذا الاحتمال جعل أبي يوسف رحمه الله مع الإمام والظاهر أن وجه الوقوع على قولهما أن السؤال يتضمن الطلاق كأنه قال: كم طلقت؟ والجواب يتضمن ما في السؤال فكأنه قال: طلقت ثلاثاً. (التحرير المختار على هامش رد المحتار: ۳/۲۱۹، باب الكنايات، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.