"تمہارے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں" کہنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تمہارے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں، میرا اور آپ کا معاملہ ختم ہے، طلاق ہوئی یا نہیں؟ نیت کی حاجت ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے ان الفاظ "تمہارے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں" سے طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاق بائن واقع ہو گئی، اور بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی، نیت کا حال شوہر سے معلوم ہو سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
وفي الفتاوى: لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع، كذا في العتابية. (الفتاوى الهندية ۱/۳۷٦، الفصل الخامس في الكنايات. وكذا في البحر الرائق: ۳/۳۰٤، كوئته).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اگر نیت شوہر کی ان الفاظ سے کہ "مجھے تم سے کوئی تعلق نہیں ہے" طلاق کی ہے تو ایک طلاقِ بائنہ اس کی زوجہ پر واقع ہو گئی، نیت کا حال شوہر سے معلوم ہو سکتا ہے ۔ (فتاوی د ار العلوم دیوبند: ۹/۳۹٤، مدلل مکمل) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
درِ مختار میں تصریح ہے کہ ان الفاظ سے جو قطع تعلق پر دال ہیں، اگر چہ حالتِ غصہ میں سرزد ہوں بدون نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی، چنانچہ عبارتِ ذیل در مختار کا یہی مفاد ہے: "وفی الغضب توقف الأولان، إن نوی وقع وإلا لا ۔ (فتاوی دار العلوم: ۹/٤۳۷) ۔
اور دوسرا جملہ "میرا اور آپ کا معاملہ ختم ہے" یہ بھی الفاظِ کنایات میں سے ہے، اور کنایات کے مختلف جملے کہنے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مرقوم ہے:
اگر شوہر کنایہ کے مختلف جملے کہے تو صرف ایک طلاق بائن اس کی زوجہ پر واقع ہو گی، جیسا کہ در مختار میں ہے: "البائن لا یلحق البائن، المراد بالبائن الذي لا یلحق ہو ما کان بلفظ الکنایۃ، لأنہ ہوالذي لیس ظاہراً في إنشاء الطلاق، کذا في الفتح ۔ (فتاوی دار العلوم: ۹/٤۷۱، مکمل و مدلل) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
لفظِ کنایہ سے واقع طلاقِ بائن کے بعد پھر لفظِ کنایہ سے طلاقِ بائن نہیں واقع ہو سکتی ہے، خواہ ایک ہی لفظ کنایہ کو بار بار استعمال کیا ہو یا متعدد الفاظِ کنایہ استعمال کیے گئے ہوں ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی ص۱٤۹، دفعہ ۳٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1501
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1501