"والدہ کے گھر چلی جا، یہاں تک کہ عقل ٹھیک ہو جائے" کہنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا: "تو اپنی والدہ کے گھر چلی جا، یہاں تک کہ تیری عقل ٹھیک ہو جائے" یہاں طلاق کی کوئی بات نہ تھی اور نہ شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی، بلکہ بچوں کے بارے میں کوئی جھگڑا ہوا اور شوہر نے یہ جملہ کہ دیا، کیا اس سے طلاق واقع ہو گی یا نہیں اور کیوں؟ جواب دے کر ممنون و مشکور فرمائیں ۔
Answer
بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ "اپنی والدہ کے گھر چلی جا" کنایہ میں سے ہیں، اور کنایہ کا حکم یہ ہے کہ اگر طلاق دینے کی نیت ہو تو طلاق واقع ہو گی ۔ جب کہ صورتِ مسئولہ میں ما بعد کی عبارت خود طلاق کے مخالف ہے، یعنی "یہاں تک کہ تیری عقل ٹھیک ہو جائے" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصود طلاق دینا نہیں تھا، بلکہ کچھ مدت والدہ کے گھر رکھنا مقصود تھا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة، وإن نوى ثلاثاً كان ثلاثاً
وهذا مثل قوله أنت بائن، وألحقي بأهلك. (الهداية: ۲/۳۷۴. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۳۷۵).
عالمگیری میں ہے:
الفصل الخامس في الكنايات: لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال كذا في الجوهرة النيرة. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۷۴).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1529
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1529