"والدین کے گھر گئی تو تیسری" کہنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی کو پہلے وقفے وقفے سے دو طلاقیں دی ہیں، اب اس کے اختیار میں ایک طلاق باقی ہے، ایک مرتبہ اس نے بیوی سے کہا "اگر تم والدین کے گھر گئی تو تم کو تیسری" اس کے ساتھ طلاق
وغیرہ کا لفظ نہیں کہا، اگر بیوی والدین کے گھر گئی تو تیسری طلاق ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر شوہر نے تیسری میں طلاق کی نیت کی تو والدین کے گھر جانے سے تیسری واقع ہو جائے گی، اور اگر ویسے ڈرانے کے لئے یہ لفظ کہا تو طلاق نہیں ہو گی ۔
عالمگیری میں ہے:
امرأة قال لها زوجها: أنت طالق واحدة، فقالت له المرأة: هزار، فقال الزوج: هزار، فهذا على وجهين: إما أن ينوى شيئاً أو لم ينو، ففي الوجه الأول هو على ما نوى، وفي الوجه الثاني لا يقع. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸۱).
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ شوہر نے بیوی کے جواب میں ہزار کا لفظ کہا، لیکن جب نیت نہیں کی تو طلاق نہیں ہو گی ۔
دوسری جگہ مذکور ہے کہ شوہر نے بیوی سے کہا: حیلہ زنان کن
يكون إقراراً بالطلاق إذا نوي
۔
(الفتاوى الهندية: ۱/۳۸۶).
یعنی شوہر نے بیوی سے کہا: عورتوں والا حیلہ کرو، بظاہر مطلب یہ ہے کہ حلالہ کی تدبیر کرو، کیوں کہ تین طلاقیں ہوئیں ۔ لیکن جب طلاق کا لفظ نہیں کہا تو نیت پر موقوف ہے، اگر نیت ہو تو طلاق ہے ورنہ نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1530
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1530