ایک مولوی صاحب کے تفریق کرنے پر فسخ کا حکم:
Question
ایک عورت کسی شخص کے نکاح میں تھی، دونوں میں نا اتفاقی پیدا ہو گئی، آخر کار عورت اپنے میکے میں بیٹھ گئی شوہر کا مطالبہ تھا کہ شریعت کے مطابق بچے میرے حوالہ کر دو تو میں طلاق دینے کے لیے تیار ہوں، مگر عورت بچے شوہر کو دینا نہیں چاہتی، الغرض عورت نے شوہر کے علم کے بغیر ایک مولوی صاحب سے تفریق کر الی، اور دوسرے مرد سے نکاح کر لیا، اب (۱) نکاح فسخ ہوا یا نہیں؟ (۲) فسخ نہیں ہوا تو دوسرے مرد سے پیدا ہونے والے بچے ثابت النسب ہے یا نہیں؟ (۳) دوسرے شوہر کے انتقال پر یہ عورت وارث ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ (۱) عورت کا نکاح فسخ نہیں ہوا اس لیے کہ فسخ نکاح کے لیے قاضی شرعی کا فیصلہ ضروری ہے اور قاضی شرعی نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین یا جمعیت العلماء یا حکمین کے ذریعہ نکاح فسخ کرایا جا سکتا ہے، اور ان کے لیے بھی شرائط و ضوابط ہیں، جن کی پابندی لازم ہے، لہذا صرف ایک عالم کے فسخ کرنے سے نکاح فسخ نہیں ہوتا، بنا بریں دوسرا نکاح صحیح نہیں ہوا یہ عورت بدستور پہلے مرد کے نکاح میں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں "الحیلۃ الناجزۃ" میں ہے:
عورت کی رہائی کی سب صورتوں میں یہ بات مشترک ہے کہ عورت یا اس کے اولیاء خود مختار نہیں بلکہ قضائے قاضی شرط ہے یعنی ضروری ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی کی عدالت میں دائر کرے اور قاضی باقاعدہ شرعی تحقیق کے بعد تفریق وغیرہ کا حکم کرے، اگر کسی جگہ قاضی شرعی موجود نہ ہو تو مسلمانوں کی جماعت کا حکم بھی قضائے قاضی کے قائم مقام ہو جائے گا، اور اس کی صورت یہ ہے کہ محلہ یا بستی کے دیندار اور با اثر مسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے جن کا عدد کم از کم تین ہو اپنا معاملہ پیش کیا جائے اور وہ جماعت واقعہ کی تحقیق کر کے شریعت کے موافق حکم کر دے ۔ (الحیلۃ الناجزۃ: ۲٤۸، امدادیہ ۔ و چند اہم فقہی مسائل: ٦۰) ۔
نوٹ: جماعت مسلمین و حکمین کے شرائط و ضوابط مختصراً ذکر کیے گئے، مزید تفصیلی بحث آخر باب میں مذکور ہو گی ۔
(۲) جب نکاح فسخ نہیں ہوا تو دوسرا نکاح فاسد ہے، لیکن دوسرے نکاح میں پیدا ہونے والے بچے ثابت النسب ہوں گے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی عالمگیری میں ہے:
ويثبت نسب الولد المولود في النكاح الفاسد وتعتبر مدة النسب من وقت الدخول عند محمد رحمه الله وعليه الفتوي قاله أبو الليث رحمه الله كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۳۰، باب في النكاح الفاسد).
(۳) شوہر اول کے انتقال پر عورت مستحق میراث ہو گی، کیوں کہ اس کی زوجیت میں ہے، ہاں دوسرے شوہر کے انتقال پر مستحق میراث نہ ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قوله ويثبت النسب (في النكاح الفاسد) أما الإرث فلا يثبت فيه. (فتاوى الشامي: ۳/۱۳٤، مطلب في النكاح الفاسد. ط: سعيد).
ومثله في الطحطاوي على الدر المختار: ۲/٦۰، باب المهر، ط: كوئته).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1589
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1589