عصر حاضر میں عاقلہ کی تعیین:

4 min readFatwa Vol 4 #300Urdu

Question

موجود ہ دور میں احناف کے نزدیک عاقلہ کون لوگ ہیں اور ان کی کیا تفصیل ہے؟

Answer

حضرت مفتی محمد تقی صاحب فرماتے ہیں:
جب قبائلی زندگی تھی اس وقت تو عاقلہ کا تعین آسان تھا کہ قبیلہ کے لوگ قریب قریب رہتے تھے اور ان کے درمیان آپس میں تعاون اور تناصر ہوتا تھا، اس لیے ہر شخص کا قبیلہ اس کی "عاقلہ" تھی وہ دیت ادا کرتا تھا لیکن موجود ہ دور میں اور خاص طور پر شہری زندگی میں عاقلہ کس کو قرار دیا جائے؟ بات یہ ہے کہ روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عاقلہ ہونے کا دار و مدار آپس میں تعاون اور تناصر پر ہے، لہذا جن لوگوں کے درمیان باہم تعاون و تناصر ہے، وہ اس کی عاقلہ ہے، لہذا جہاں کوئی قبیلہ ہے اور وہ قبائل منظم ہیں، اور ہر شخص کو معلوم ہے کہ اس کا قبیلہ فلاں ہے، تو وہ اس کی عاقلہ ہے، وہ اس کی دیت ادا کرے، اور اگر قبیلہ نہیں ہے، لیکن منظم برادری ہے تو وہ دیت ادا کرے، اور اگر برادری بھی نہیں ہے تو پھر جیسے آج کل ٹریڈ یونین ہوتی ہے اور ان کے درمیان آپس میں تعاون و تناصر ہوتا ہے تو وہ اس کی عاقلہ ہو سکتی ہے، خلاصہ یہ ہے کہ شخص کی عاقلہ اس کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے
دیت عاقلہ پر اس لیے واجب کی ہے تاکہ عاقلہ اس کو اس قسم کے جرائم سے باز رکھے اور اس کی تربیت اس طرح کرے کہ وہ قتل پر آمدہ نہ ہو، اور اگر کبھی قتل پر آمدہ ہو تو عاقلہ اس کو روکے، اور یہ دیت تین سال میں وصول کی جائے گی، اور ایک فرد سے ایک سال میں تین درہم سے زیادہ وصول نہیں کیے جائیں گے ۔ (تقریر ترمذی: ۲/ ۵۷، باب ما جاء فی المرأۃ ترث من دیۃ زوجہا) ۔
ہدایہ میں ہے:

والعاقلة أهل الديوان إن كان القاتل من أهل الديوان يؤخذ من عطاياهم في ثلاث سنين، وأهل الديوان أهل الرايات وهم الجيش الذين كتبت أساميهم في الديوان وهذا عندنا

ولنا قضية عمر رضي الله عنه فإنه لما دون الدواوين جعل العقل على أهل الديوان وكان ذلك بحضر من الصحابة رضي الله عنهم من غير نكير منهم وليس ذلك بنسخ بل هو تقرير معني لأن العقل كان على أهل النصرة وقد كانت بأنواع بالقرابة والحلف والولاء والعد وفي عهد عمر رضي الله عنه قد صارت بالديوان فجعلها على أهله اتباعاً للمعني ولهذا قالوا: لوكان اليوم قوم تناصرهم بالحرف فعاقلتهم أهل الحرفة وإن كان بالحلف فأهله والدية صلة لكن إيجابها فيما هو صلة وهو العطا اولي منه في أصول أموالهم والتقدير بثلث سنين مروي عن النبي ﷺ ومحكي عن عمر رضي الله عنه ولأن الأخذ من العطاء للتخفيف والعطاء يخرج في كل سنة مرة واحدة. (الهداية: ٤/ ٦٤۵، كتاب المعاقل).

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

ثم اختلفوا في تعيين مصداق العاقلة

وقال الإمام أبو حنيفة رحمه الله: إن العاقلة هم الذين يتناصر بهم القاتل، وكان التناصر في عهد رسول الله ﷺ بالقبائل، فكانت عاقلة الرجل قبيلته ثم تغير الوضع حين وضع سيدنا عمر رضي الله عنه الديوان، فصار التناصر بأهل الديوان فأصبح أهل الديوان عاقلته

فالحاصل أن قضاء عمر رضي الله عنه بمحضر من الصحابة ث دل على أن الحكم كان مناطه النصرة، فيتغير بتغيره، ويمكن أن يقال في عصرنا: إن التناصر أصبح للعمال بوفاقهم الذي يسمي "تريد يونين"

فينبغي أن تكون عاقلة عامل وفاقه

وحيث لم يكن للقاتل جماعة ينتصر بها فالدية في بيت المال إن كان منتظماً فيه سعة، وإن لم يكن منتظماً ففي مال القاتل. (تكملة فتح الملهم: ۲/ ۳۷۹، الاختلاف في العاقلة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.