بلا اجازت کار لے کر ایکسیڈنٹ کرنے پر تاوان کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #318Urdu

Question

ایک شخص مثلا زید نے بکر کو کار پیچھے کرنے کے لئے کہا لیکن وہ بغیر اجازت کے کار کو باہر نکال کر لے گیا، لے جانے والے کے ساتھ ایک اور آدمی عمر بیٹھا تھا، عمر نے بکر سے کہا کہ کار بغیر اجازت کے مت لے جاؤ، لیکن بکر نے بات نہیں سنی، کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور مکمل خراب ہو گئی اب ضمان ہے یا نہیں؟ اور کس پر ہے؟ یعنی بکر لے گیا اور عمر نے گاڑی چلائی اور ایکسیڈنٹ ہو گیا، اگر تاوان ہے تو مالک کار لینے والے سے تاوان لے گا یا آخر میں چلا نے والے سے یا اس کو اختیار ہے اور اگر چلانے والے سے نہیں لیا بلکہ لینے والے سے لیا تو وہ چلانے والے پر رجوع کرے گا یا نہیں؟

Answer

بصورت مسئولہ مالک کو اختیار ہے جس کو چاہے ضامن بنائے اور تاوان وصول کرے پھر اگر مالک نے اول یعنی کار لے جانے والے کو ضامن بنایا تو کار لے جانے والا دوسرے سے یعنی چلانے والے سے وصول کرے گا چونکہ اس نے لے جانے سے منع بھی کیا تھا، اور اگر مالک نے ثانی یعنی چلانے والے مباشر کو ضامن بنایا تو ثانی اول پر رجوع نہیں کرے گا وہ مسبب ہے اس پر ضمان نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائی شرح مجلہ میں ہے:

لو أتلف واحد مال آخر أو نقص قيمته تسبيبا يعني لو فعل ما كان سببا مفضيا إلى تلف مال أو نقصان قيمته كان ضامنا بشرط أن يكون متعمدا أو متعديا. (ص ۹۲۲).
بدائع الصنائع
میں ہے:

فلا شك أن الإتلاف سبب لوجوب الضمان عند استجماع شرائط الوجوب لأن إتلاف الشيء إخراجه من أن يكون منتفعا به منفعة مطلوبة منه عادة وهذا اعتداء وأضرار وقد قال سبحانه وتعالى: فمن اعتدي عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدي عليكم. وقال عليه الصلاة والسلام لا ضرر ولا ضرار في الإسلام وقد تعذر نفي الضرر من حيث الصورة فيجب نفيه من حيث المعنى بالضمان ليقوم الضمان مقام المتلف فينتفي الضرر بالقدر الممكن ولهذا وجب الضمان بالغصب فبالإتلاف أولي. (بدائع ۷/۱٦٤).

شرح المجلہ میں ہے:

إذا اجتمع المباشر والمتسبب يضاف الحكم إلى المباشر

لو فتح باب غيره فدخل آخر وسرق البيت فالضمان على السارق لأنه مباشر لا على فاتح الباب لأنه متسبب وكذا إذا لو دفع إلى صبي سكينا ليمسكه له فقتل به نفسه لا ضمان على الدافع. قلت: إن عدم إيجاب الضمان في هذه الصورة بالاجماع أنه تخلل بين فعل فاعل مختار هو ذو عقل. (شرح المجلة، ص ۵۱٤).
وفي الشامي: غصب شيئاً ثم غصبه آخر منه فأراد المالك أن يأخذ بعض الضمان من الأول وبعضها من الثاني له ذلك سراجية. والمالك بالخيار في تضمين أيهما شاء وفي الهندية: إن ضمن الأول يرجع الأول على الثاني بما ضمن وإن ضمن الثاني لا يرجع على الأول. (فتاوى الشامي ٦/۱۹۷، سعيد).

مزید ملاحظہ ہو: (الفتاوی الہندیۃ ۵/۱۲۰، و شرح المجلہ، ص ۵۰۸، المادۃ ۹۱۲، و المادۃ ۹۲، ص ٦۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.