عمارتِ مسجد کی تبدیلی کا حکم:
Question
مسجد کے ارد گرد آبادی ختم ہو جائے اور مسجد ویران ہو جائے تو اس کو فروخت کر کے دوسری جگہ مسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ مثلاً ایک شہر میں ایک مسجد ہے جہاں پر مسلمانوں کی آبادی ہے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اربابِ حکومت کے امر پر عمل کرتے ہوے وہ حضرات دوسری جگہ منتقل ہو جائیں اور وہاں پر صرف ایک گھرانہ یا چند مسلمان رہ جائیں، یا مسجد غیر آباد رہے، تو اس صورت میں مسجد کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ کیا اس مسجد کو شہید کر کے زمین بیچ کر حاصل شدہ رقم کے ساتھ دوسری جگہ مسجد تعمیر کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ مسجد کے پنکھے، مصاحف، قالین وغیرہ کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے کہاں منتقل کریں، کیا مدارس دینیہ میں اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
Answer
مسجد کو شہید کرنا یا اس کی زمین کو فروخت کرنا مفتیٰ بہ قول کے مطابق جائز اور درست نہیں ہے، بلکہ اس کو مسجد ہی رہنے دیا جائے اور قرب و جوار میں جو افراد رہ رہے ہیں وہ اس مسجد کو آباد رکھیں، البتہ اگر اس کے قرب و جوار میں کوئی مسلمان نہ رہے تو ضرورتاً مسجد کے جملہ سامان بلکہ دیوار تک دوسری جگہ منتقل کر کے مسجد تعمیر کی جائے اور مسجد کی زمین فروخت نہ کی جائے، کیوں کہ راجح قول کے مطابق وہ جگہ خواہ کچھ بھی ہو مسجد کے حکم میں رہے گی ۔
في الدر المختار: ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجد اً عند الإمام والثاني، أبداً إلى قيام الساعة وبه يفتى. (الدر المختار: ٤/۳۵۸، سعيد).
وفيه: وعن الثاني ينقل إلى مسجد آخر جزم به في الإسعاف حيث قال: ولو خرب المسجد وما حوله وتفرق الناس عنه لا يعود إلى ملك الواقف عند أبي يوسف رحمه الله فيباع بإذن القاضي ويصرف ثمنه إلى بعض المساجد. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤ /۳۵۹، مطلب في ما لو خرب المسجد، سعيد).
وفيه: قال الشامي رحمه الله: قلت:
والذي ينبغي متابعة المشايخ المذكورين في جواز النقل بلا فرق بين مسجد أو حوض كما أفتي به الإمام أبو الشجاع والإمام الحلواني وكفي بهما قدوة ولا سيما في زماننا، فإن المسجد أو غيره من رباط، أو حوض إذا لم ينقل يأخذ أنقاضه اللصوص والمتغلبون كما هو مشاهد وكذا أوقافه يأكله النظار أو غيرهم ويلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلى النقل إليه وقد وقعت حادثة سئلت عنها في أمير أراد أن ينقل بعض أحجار مسجد خراب في صفح قاسيون بدمشق ليباط بها صحن الجامع الأموي فأفتيت بعدم الجواز متابعة للشرنبلالي، ثم بلغني أن بعض المتغلبين أخذ تلك الأحجار لنفسه فندمت على ما أفتيت به ثم رأيت الآن الذخيرة، قال وفي الفتاوى النسفي: سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا وتداعي مسجد ها إلى الخراب وبعض المتغلبة يستولون على خشبه وينقلونه إلى دورهم هل لواحد لا هل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد قال: نعم. وحكي أنه وقع مثله في زمن سيدنا الإمام الأجل في رباط في بعض الطرق الخرب ولا ينتفع المارة به وله أوقاف عامرة فسئل هل يجوز نقلها إلى رباط آخر ينتفع الناس به قال: نعم، لأن الواقف غرضه انتفاع المارة ويحصل ذلك بالثاني. (فتاوى الشامي: ٤/۳٦۰، مطلب في نقل انقاض المسجد، ط سعيد).
وانظر للمزيد: (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٦/۲۷۰، الرابع في المسجد
نوع آخر).
امداد الفتاوی میں ہے:
اصل اور راجح تو عدم جواز نقل ہے لیکن بعض علماء ضرورت میں جواز کے قائل ہوے ہیں، سو بلا ضرورتِ شدیدہ تو اصل مذہب کو چھوڑنا جائز نہیں اور ضرورتِ شدید ہ میں گنجائش ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جب ایک مسجد مستغنی ہو جائے تو اس کا وقف دوسری مسجد میں صرف کرنا جائز ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/٦۷۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1813
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1813