مسجد میں پائپ لگانے کا حکم:
Question
ایک گاؤں میں بارش کا پانی اور گھروں کا پانی ایک شخص کی زمین سے بہہ کر بڑے نالے میں گرتا تھا، اس شخص نے اپنی زمین میں دیوار اور کمرہ بنا کر پانی بند کر دیا، اور شخص مقدمہ بھی جیت گیا، اب اس زمین کے ساتھ مسجد کا حصہ ہے وہاں نماز باجماعت پڑھی جاتی ہے، بعض لوگوں کی درخواست ہے کہ مسجد کے تحتانی حصہ میں پائپ وغیرہ لگا دیں اور اوپر سے فرش بنا لیں تو زمین کے اندر سے پانی نکلتا رہے گا اور اوپر مسجد میں کوئی نقصان نہیں آئے گا اور پانی کے نکلنے کا راستہ بھی مہیا ہو جائے گا، اس سلسلہ میں شرعاً کیا فتویٰ ہے؟
Answer
مسجد کے تحتانی حصہ میں پائپ لگانا اور اوپر سے فرش بنا لینا بالکل جائز نہیں ہے، جب ایک مرتبہ مسجد بن جاتی ہے تو قیامت تک مسجدیت ختم نہیں ہوتی، اور مسجد نیچے تحت الثری تک اور اوپر فوق السماء تک ہوتی ہے، لہذا مسجد کے احترام کے منافی کوئی کام کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فناء ه لأن المسجد إذا جعل حانوتاً ومكاناً تسقط حرمته وهذا لا يجوز والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۲).
در مختار میں ہے:
لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تاتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئاً منه مستغلاً ولا سكني، بزازية. (الدر المختار: ٤/۳۵۸، سعيد. وفتاوى قاضيخان: على هامش الهندية: ۳/۲۹۳).
کفایت المفتی میں ہے:
صحن مسجد کا اطلاق دو معنوں پر کیا جاتا ہے اول مسجد کے اس غیر مسقف حصے کو صحن کہتے ہیں جو مہیا للصلاۃ تو ہوتا ہے یعنی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے لیکن بغیر چھت کے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، دوم اس حصے کو بھی صحن کہہ دیتے ہیں جو موضع مہیا للصلاۃ کے مسقف اور غیر مسقف حصے کے بعد خالی زمین یا فرش کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے مگر وہ نماز و جماعت ادا کرنے کے لیے نہیں بنایا جاتا ۔
پہلے معنی کے لحاظ سے صحن تو مسجد کا ہی حصہ ہے اور اس کے احکام مسجد کے احکام ہیں اس میں حوض اور وضو کی نالی وغیرہ بنانا جائز نہیں کیوں کہ جو جگہ ایک مرتبہ مسجد ہو جائے اور اس کو نماز کے لیے مخصوص کر دیا جائے پھر اس کو کسی دوسرے کام میں نہیں لا سکتے (کفایت المفتی: ۳/۱۸۲، کتاب الصلاۃ، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1819
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1819