مسجد کے احاطہ میں پھل دار درخت لگانے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #363Urdu

Question

مسجد کے احاطہ میں پھل دار درخت اس نیت سے لگانا کہ پھلوں کو بیچ کر اس کی رقم مسجد کے اخراجات میں صرف کی جائے گی، درست ہے یا نہیں؟ نیز فی الحال جو درخت مسجد کے احاطہ میں موجود ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

Answer

مسجد کا فارغ احاطہ جس میں لوگ نماز نہیں پڑھتے لیکن وہ جگہ مسجد کی ہے، اس جگہ میں دکانیں، مارکیٹ، پھل دار درخت، کھانے کے ہوٹل، مسجد کے کرائے اور فائدہ کے لیے بنا سکتے ہیں، اس لیے درختوں کا لگانا یا موجود ہ درختوں سے پھل حاصل کرنا اور فروخت کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتح القدیر میں ہے:

وأن يبني بيوتاً يستغلها إذا كانت الأرض متصلة ببيوت المصر ليست للزراعة، فإن كان زراعتها أصلح من الاستغلال لا يبني. (فتح القدير: كتاب الوقف، ٦/۲٤۱، دار الفكر).
قال في البحر الرائق: مسجد فيه شجرة التفاح قال بعضهم: يباح للقوم أن يفطروا بهذا التفاح والصحيح أنه لا يباح لأن ذلك صار وقفاً للمسجد يصرف إلى عمارته. (البحر الرائق، كتاب الوقف، ۵/۲۰٤، كوئته. وكذا في الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.