مساجد میں مینار کی تحقیق:
Question
مساجد میں مینار کب سے ہیں، اور ان کا کیا مقصد ہے، کیا یہ بدعت تو نہیں؟
Answer
استاذِ محترم حضرت مولانا سرفراز خان صاحب رحمه الله نے راہِ سنت میں تحریر فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مینار در اصل اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ ان پر اذان ہو اور دور تک لوگ اذان کی آواز سنیں ۔
امام ابو داؤد رحمه الله نے مستقل ایک باب قائم فرمایا ہے: "
باب الأذان فوق المنارة". (أبو داود شريف: ۱/۷۷).
اور حضرت ابو برزہ اسلمی
رضي الله عنه
المتوفی
٦۵
، وغیرہ فرماتے ہیں کہ
"من السنة الأذان في المنارة والإقامة في المسجد". (نصب الراية للعلامة الزيلعي: ۱/۲۹۳، كتاب الصلاة، بيروت، ومصنف ابن أبي شيبة: ۱/۲۲٤).
اصولِ حدیث کا مسئلہ کہ مطلق سنت سے آنحضرت ﷺ کی سنت مراد ہوتی ہے ۔ (راہِ سنت، ص
۳۰۵
) ۔
الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں حافظ ابن حجر رحمه الله ایک صحابی مسلمہ بن مخلد کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں:
وقال ابن السكن: وهو أول من جعل على أهل مصر بنيان المنار. (الإصابة في تمييز الصحابة: ٦/۹۲، حرف الميم).
چونکہ مینار مقصود نہیں بلکہ مسجد کی معرفت کی علامت اور پرانے زمانہ میں اذان کی آواز دور تک پہنچانے کا ذریعہ تھا، اس لیے یہ بدعت بھی نہیں خصوصاً جو چیز صحابہ
ث
سے ثابت ہو ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1824
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1824