مساجد میں جہری دعا کا حکم:
Question
مساجد میں بعض دفعہ کوئی مقرر یا امام جہر کے ساتھ دعا کرتا ہے دعا میں بہتر کیا ہے اور کبھی کبھی جہری دعا کا کیا حکم ہے؟
Answer
دعا میں اصلاً سر ہی افضل اور بہتر ہے، ہاں گاہے گاہے جہری دعا کرنا بھی جائز اور درست ہے ۔ خصوصاً عوام کی مساجد میں جہری دعا کرنا زیادہ مناسب اور موزوں معلوم ہوتا ہے، تاکہ عوام اپنے ائمہ سے دعا کا طریقہ سیکھیں اور قرآن و احادیث کی ادعیہ پر آمین کہنے کی سعادت حاصل کریں ۔ لیکن احیاناً سری دعا کرے تاکہ لوگ جہری دعا کو ضروری نہ سمجھیں ۔
قال الله تعالى: ﴿ادعو ربكم تضرعاً وخفية﴾
قال العلامة الآلوسي البغدادي الحنفي رحمه الله: الإخفاء أفضل عند خوف الريا والإظهار أفضل عند عدم خوفه وأولي منه القول بتقديم الإخفاء على الجهر فيما إذا خيف الرياء أو كان في الجهر تشويش على نحو مصل أو نائم أو قارئ أو مشتغل بعلم شرعي وبتقديم الجهر على الإخفاء فيما اذا خلا عن ذلك وكان فيه قصد تعليم جاهل أو نحو إزالة وحشة عن مستوحش أو طرد نحو نعاس أو كسل عن الداعي نفسه أو إدخال سرور على قلب مؤمن أو تنفير مبتدع عن بدعة أو نحو ذلك ومنه الجهر بالترضي عن الصحابة رضي الله عنهم والدعاء لا مام المسلمين في الخطبة. (تفسير روح المعاني: ۸/۱٤۰).
اعلاء السنن میں ہے:
عن النبي ﷺ أنه قال: خير الدعاء الخفي. رواه ابن حبان في صحيحه. وعن أنس رضي الله عنه مرفوعاً دعوة في السر تعدل سبعين دعوة في العلانية
(اعلاء السنن: ٦/۱۱۱).
عمل الیوم و اللیلہ میں ہے:
عن صهيب رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ كان يحرك شفتيه بعد صلاة الفجر بشيء، فقلت: يا رسول الله إنك تحرك شفتيك بشيء ماكنت تفعل ما هذا الذي تقول: قال: أقول: اللهم بك أحاول وبك أصاول وبك أقاتل. (عمل اليوم والليلة: ۱/۳۲).
أخرج ابن المبارك
عن الحسن قال: لقد كان المسلمون يجتهدون في الدعاء وما يسمع لهم صوت ان كان إلا همساً بينهم وبين ربهم وذلك أنه تعالى يقول: ﴿ادعو ربكم تضرعاً وخفية﴾ وأنه سبحانه ذكر عبداً صالحاً فرضي له فعله فقال تعالى: ﴿إذ نادي ربه نداء خفياً﴾ وفي رواية عنه أنه قال: بين دعوة السر وبين دعوة العلانية سبعون ضعفاً وجاء من حديث أبي موسي الأشعري رضي الله عنه أنه ﷺ قال لقوم يجهرون: أيها الناس اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائباً إنكم تدعون سميعاً بصيراً وهو معكم وهو أقرب إلى أحدكم من عنق راحلته والمعنى ارفقوا بأنفسكم واقصروا من الصياح في الدعاء
(روح المعاني: ۸/۱۳۹).
مولانا ادریس صاحب لکھتے ہیں:
اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو عاجزی سے اور چپکے چپکے یعنی دعا کا ادب یہ ہے کہ عاجزی اور فرتنی کے ساتھ ہو اور آہستہ آہستہ ہو معلوم ہوا کہ دعا میں اخفاء بہ نسبت جہر کے اولیٰ ہے ۔ (معارف القرآن: ۳/۱۳۷) ۔
لیکن کبھی مصلحت کی وجہ سے جہر کرنا درست ہے ۔
مطلق دعا بالجہر کی احادیث ملاحظہ فرمائیں:
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال النبي ﷺ وهو في قبة يوم بدر: اللهم إني أنشدك عهدك ووعدك اللهم إن شئت لم تعبد بعد اليوم فأخذ أبوبكر رضي الله عنه بيده، فقال: حسبك يا رسول الله، فقد ألححت على ربك وهو في الدرع فخرج وهو يقول: سيهزم الجمع ويولون الدبر بل الساعة موعدهم والساعة أدهي وأمرّ. (رواه البخاري: ۱/٤۰۹).
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان النبي ﷺ يدعو في القنوت اللهم أنج سلمة بن هشام اللهم أنج الوليد بن الوليد اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين
الخ. (رواه البخاري: ۱/٤۱۱، باب الدعاء على المشركين).
یہ دعا جہراً تھی صحابہ کرام نے سنی ۔
عن حبيب بن مسلمة الفهري وكان مجاب الدعوة أنه أمر على جيش فدرب الدروب فلما أتي العدو قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: لا يجتمع ملأ فيدعو بعضهم ويؤمن البعض إلا أجابهم الله ثم أنه حمد الله وأثني عليه ثم قال: اللهم احقن دماء نا واجعل أجورنا أجور الشهداء
. (المستدرك على الصحيحين: ۳/٤۲۸/۵٤۷۸).
قال الہیثمی: رواہ الطبرانی و رجالہ رجال الصحیح غیر ابن لہیعۃ و ہو حسن الحدیث ۔ (
مجمع الزوائد: ۱۰/۱۷۰، باب التأمين على الدعاء، دار الفكر).
حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضي الله عنه مستجاب الدعوات صحابی تھے انہیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا انہوں نے ملک روم جانے کے راستے تیار کرائے، جب دشمن کا سامنا ہوا تو انہوں نے لوگوں سے کہا میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوے سنا کہ جو جماعت ایک جگہ جمع ہو اور ان میں سے ایک دعا کرائے اور باقی سب آمین کہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے پھر حضرت حبیب رضي الله عنه نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ دعا مانگی اے اللہ ! ہمارے خون کی حفاظت فرما اور شہداء والا اجر ہمیں عطا فرما ۔ (حیات الصحابہ، مترجم، ۳/۳۵۳) ۔
حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمه الله نے ارشاد فرمایا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اجتماعی دعا مشروع ہی نہیں بلکہ اقرب الی الاجابہ ہے ۔ (ملفوظات: ص
۱۷
) ۔
قوله تعالى: ﴿قد أجيبت دعوتكما﴾ قال أبو العالية وأبو صالح وعكرمة ومحمد بن كعب القرظي والربيع بن أنس: دعا موسي عليه السلام وأمن هارون عليه السلام أي قد أجبناكما فيما سألتما من تدمير آل فرعون، وقد يحتج بهذه الآية من يقول إن تأمين المأموم على قراء ة الفاتحة ينزل منزلة قراءتها لأن موسي عليه السلام دعا وهارون عليه السلام أمن. (تفسير القرآن العظيم: ۲/٤۷۰).
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ رفع رأسه بعد ما سلم وهو مستقبل القبلة، فقال: اللهم خلص سلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والوليد بن الوليد وضعفة المسلمين الذين لا يستطيعون حيلة ولا يهتدون سبيلاً، قلت: في الصحيح أنه قنت به رواه البزار وفيه على بن زيد وفيه خلاف وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۱۰/۱۵۲).
حیات الصحابہ میں مطلق جہری دعا کی چند احادیث مذکور ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں:
(۱) أخرج الطبراني في الأوسط عن قيس المدني أن رجلاً جاء زيد بن ثابت رضي الله عنه فسأل عن شيء فقال له زيد: عليك بأبي هريرة رضي الله عنه فبينا أناْ وأبو هريرة رضي الله عنه وفلان في المسجد ندعو ونذكر ربنا عز وجل إذ خرج إلينا رسول الله ﷺ حتى جلس إلينا فسكتنا فقال: "عودوا للذي كنتم فيه". فقال زيد: فدعوت أناْ وصاحبي قبل أبي هريرة رضي الله عنه وجعل النبي ﷺ يؤمن على دعائنا، ثم دعا أبو هريرة رضي الله عنه فقال: اللهم! إني سائلك بمثل ما سالك صاحباي وأسألك علماً لا ينسي، فقال النبي ﷺ: "سبقكما بها الغلام الدوسي". قال الهيثمي (۹/۳٦۱): وقيس هذا كان قاص عمر بن عبد العزيز لم يروعنه غير ابنه محمد، وبقية رجاله ثقات. انتهي.
ترجمہ: حضرت قیس مدنی رحمه الله کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت زید بن ثابت رضي الله عنه کی خدمت میں حاضر ہو کر کسی چیز کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا تم جا کر یہ بات حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے پوچھو کیونکہ ایک مرتبہ میں، حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه اور فلاں آدمی ہم تینوں مسجد میں دعا کر رہے تھے اور اپنے رب کا ذکر کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے توہم خاموش ہو گئے پھر فرمایا تم جو کر رہے تھے اسے کرتے رہو، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے پہلے دعا کی اور حضور ﷺ ہماری دعا پر آمین کہتے رہے پھر حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه نے یہ دعا کی اے اللہ ! میرے ان دو ساتھیوں نے جو کچھ تجھ سے مانگا ہے میں وہ بھی تجھ سے مانگتا ہوں اور ایسا علم بھی مانگتا ہوں جو کبھی نہ بھولے، حضور ﷺ نے فرمایا آمین، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم بھی اللہ سے وہ علم مانگتے ہیں جو کبھی نہ بھولے، حضور ﷺ نے فرمایا یہ دوسی نوجوان (یعنی حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه) تم دونوں سے آگے نکل گئے ۔
وأخرج ابن سعد (۳/۲۷۵) عن جامع بن شداد عن ذي قرابة له قال: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول: ثلاث كلمات إذا قلتها فهيمنوا عليها! اللهم إني ضعيف فقوني! اللهم اني غليظ فليني! اللهم إني بخيل فسخني. (
اس میں ذی قرابت معلوم نہیں، لیکن روایت صرف تائید کے لیے پیش کی گئی ہے) ۔
جامع بن شداد رحمه الله کے ایک رشتہ دار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضي الله عنه کو فرماتے ہوے سنا کہ تین دعائیں ایسی ہیں کہ جب میں وہ مانگتا ہوں تو تم ان پر آمین کہنا، اے اللہ ! میں کمزور ہوں مجھے قوت عطا فرما، اے اللہ ! میں سخت دل ہوں مجھے نرم کر دے، اے اللہ ! میں کنجوس ہوں مجھے سخی بنا دے ۔
وأخرج أيضاً (۳/۳۲۱) عن السائب بن يزيد قال: نظرت إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه يوماً في الرمادة غداً متبذلاً متضرعاً عليه برد لا يبلغ ركبتيه يرفع صوته بالاستغفار وعيناه تهرقان على خديه، وعن يمينه العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه فدعا يومئذ وهو مستقبل القبلة رافعاً يديه إلى السماء وعج إلى ربه فدعا ودعا الناس معه ثم أخذ بيد العباس رضي الله عنه فقال: اللهم إنا نستشفع بعم رسولك إليك، فما زال العباس رضي الله عنه قائماً إلى جنبه ملياً والعباس رضي الله عنه يدعو وعيناه تهملان.
حضرت سائب بن یزید رحمه الله کہتے ہیں کہ میں نے رمادہ قحط سالی کے زمانے میں حضرت عمر بن خطاب رضي الله عنه کو دیکھا کہ وہ صبح کے وقت عام سادہ سے کپڑے پہنے ہوے عاجز اور مسکین بن کر جا رہے ہیں اور ان کے جسم پر ایک چھوٹی سی چادر پڑی ہوئی ہے جو گھٹنوں تک مشکل سے پہنچ رہی ہے، اونچی آواز سے اللہ سے معافی مانگ رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے رخسار پر آنسو بہہ رہے ہیں اور ان کے دائیں طرف حضرت عباس بن عبد المطلب رضي الله عنه ہیں، اس دن انہوں نے قبلہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر بہت گڑ گڑا کر دعا مانگی لوگ بھی ان کے ساتھ دعا مانگ رہے تھے پھر حضرت عباس رضي الله عنه کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا اے اللہ ! ہم تیرے رسول ﷺ کے چچا کو تیرے سامنے سفارشی بناتے ہیں پھر حضرت عباس رضي الله عنه بہت دیر تک حضرت عمر رضي الله عنه کے پہلو میں کھڑے ہو کر دعا مانگتے رہے، ان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے ۔
وأخرج ابن سعد (۳/۲۹٤) عن أبي سعيد مولي أبي أسيد قال: كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يعس المسجد بعد العشاء فلايري فيه أحداً إلا أخرجه إلا رجلاً قائماً يصلي، فمر بنفر من أصحاب رسول الله ﷺ فيهم أبي بن كعب رضي الله عنه فقال: من هؤلاء؟ قال أبي: نفر من أهلك يا أمير المؤمنين! قال: ما خلفكم بعد الصلاة؟ قال: جلسنا نذكر الله، قال: فجلس معهم ثم قال لا دناهم إليه خذ! قال فدعا فاستقرأهم رجلاً رجلاً يدعون حتى انتهي إلى وأنا إلى جنبه فقال: هات! ف
حضرت
وأخذني من الدعاء إفكل حتى جعل يجد مس ذلك مني فقال: ولو أن تقول: اللهم اغفرلنا! اللهم ارحمنا! قال: ثم أخذ عمر رضي الله عنه فما كان في القوم أكثر دمعة ولا أشد بكاء منه ثم قال: أيها الناس الآن! فتفرقوا.
حضرت ابو اسید رحمه الله کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو سعید رحمه الله کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضي الله عنه عشاء کے بعد مسجد کا چکر لگاتے ہوے پہرہ دیتے تھے اور جو آدمی بھی نظر آتا اسے مسجد سے نکال دیتے جسے کھڑاہوانماز پڑھتے ہوے دیکھتے اسے رہنے دیتے، ایک رات ان کا حضور ﷺ کے چند صحابہ
ث
پر گزر ہوا جن میں حضرت ابی بن کعب رضي الله عنه بھی تھے، حضرت عمر رضي الله عنه نے پوچھا یہ لوگ کون ہیں؟ حضرت ابی نے کہا اے امیر المؤمنین ! آپ کے گھرکے چند آدمی ہیں، فرمایا نماز کے بعد تم لوگ اب تک یہاں کیوں بیٹھے ہوے ہو؟ حضرت ابی نے فرمایا ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں، اس پر حضرت عمر رضي الله عنه بھی ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان میں سے جوان کے قریب تھا اس سے فرمایا تم دعا کراؤ، اس نے دعا کرائی یہاں تک کہ میری باری آ گئی، میں آپ رضي الله عنه کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا فرمایا اب تم دعا کراؤ تو میری زبان بند ہو گئی اور مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی جس کا انہیں بھی اندازہ ہو گیا تو فرمایا اور کچھ نہیں تو اتنی ہی دعا کرا دو
"اللّٰهم اغفر لنا، اللّٰهم ارحمنا"
اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما، اے اللہ !ہم پر رحم فرما" پھر حضرت عمر رضي الله عنه نے دعا شروع کی تو ان لوگوں میں سب سے زیادہ آنسوؤں والا اور سب سے زیادہ رونے والا ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا پھر حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا اب آپ سب لوگ بھی خاموش ہو جائیں اور بکھر جائیں ۔
وأخرج أحمد والطبراني عن عقبة بن عامر رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال لرجل يقال له ذو البجادين: إنه أواه، وذلك أنه كثير الذكر لله عزوجل في القرآن، وكان يرفع صوته في الدعاء. قال الهيثمي (۹/۳٦۹). وإسنادهما حسن. (حياة الصحابة: ٤/۱۳۰، الدعاء في الجماعة ورفع الصوت والتامين، المكتبة التجارية).
فقہی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
فتاوی بزازیہ میں ہے:
واعظ يدعو كل أسبوع بدعاء مسنون جهراً لتعليم القوم ويخافته القوم إذا تعلم القوم خافت هو أيضاً. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/٤۲).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
والسنة أن يخفي صوته بالدعاء كذا في الجوهرة النيرة. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۲۹. والجوهرة النيرة: ۱/۱۹۳. ورد المحتار: ۲/۵۷، سعيد).
امداد الفتاوی میں ہے:
اعلم أنه لا خلاف بأن المذاهب الأربعة في ندب الدعاء سراً للإمام والفذ وأجاز المالكية والشافعية جهر الإمام به لتعليم المأمومين أو تأمينهم على دعائه. (إمداد الفتاوى: ۱/۵٦۵).
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال: فرضوں کے بعد دعا جہر سے مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بعد فرض نماز کے دعا جہر سے کرنا جائز ہے اگر کوئی مانع عارض نہ ہو ۔ (فتاوی رشیدیہ: ٦۰۱) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سری دعا افضل ہے، نماز یوں کا حرج نہ ہوتا ہو تو کبھی کبھی ذرا آواز سے دعا کر لے تو جائز ہے ہمیشہ جہری دعا کی عادت بنانا مکروہ ہے ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
آہستہ اور پست آواز سے دعا مانگنا افضل ہے دعا یاد کر لے یا دعائیہ جملہ ختم ہونے پر آمین کہہ سکے اس غرض سے ذرا آواز سے دعا مانگی جائے تو کوئی حرج نہیں وہ بھی اس شرط سے نماز یوں کا حرج نہ ہو (فتاوی رحیمیہ: ٦/۵۵ ۔ و کذا فی فتاوی محمودیہ: ۵/٦۹۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1846
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1846