نجاست آلود کپڑا پہن کر مسجد میں آنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 4 #392Urdu

Question

ایک شخص کا پاجامہ یا شلوار ناپاک ہے اور ناپاکی خشک ہے مثلاً پیشاب یا منی خشک ہو گئی ہے، تو اسی شلوار یا پاجامہ پہن کر مسجد میں آنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

اگر نجاست آلودہ کپڑوں سے مسجد کے ملوث ہونے کا اندیشہ ہو تو ناجائز ہے ورنہ خلافِ اولیٰ ہوگا ۔ کیوں کہ فقہاء نے ناپاک تیل مسجد میں جلانے اور اس سے چراغ روشن کرنے کو مکروہ لکھا ہے، لیکن دوسری طرف مستحاضہ کے مسجد میں داخل ہونے کا بھی تذکرہ ملتا ہے، لہذا مسجد کے ملوث ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مکروہِ تحریمی نہیں کہیں گے ۔ ہاں بہتر نہیں ۔

قال الله تعالى: ﴿وطهر بيتي للطائفين﴾. (سورة الحج، الآية: ۲٦)

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اس میں بیت اللہ پاک کرنے کا حکم ہے جس میں ظاہری نجاسات اور گندگی سے طہارت بھی داخل ہے اور اس حکم طہارت کے لیے
"بيتي"
میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ حکم تمام مساجد کے لیے عام ہے، کیوں کہ ساری مساجد بیوت اللہ ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: "
في بيوت أذن الله أن ترفع"
۔ (معارف القرآن: ۱/۳۲۳) ۔ حدیث شریف میں ہے ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:

إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول ولا القذر. (صحيح مسلم: ۱/۱۳۸).
جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وبيعكم

(ابن ماجه شريف: ۵٤).

بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: اعتكفت مع رسول الله ﷺ امرأة من أزواجه مستحاضة فكانت تري الحمرة والصفرة فربما وضعنا الطست تحتها وهي تصلي. (رواه البخاري: ۱/۲۷۳/۱۹۹۱، باب اعتكاف المستحاضة).

اس حدیث کی شرح میں علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں کہ کپڑے یا مسجد ملوث نہ ہو تو ٹھیک ہے اسی طرح جو مستحاضہ کے معنی میں ہے یعنی معذور وغیرہ ان کے لئے بھی مسجد میں داخل ہونے اور اعتکاف کرنے کی اجازت ہے ۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:

ومما يستنبط منه: جواز اعتكاف المستحاضة، وجواز صلاتها لأن حالها حال الطاهرات وإنها تضع الطست لئلا يصيب ثوبها أو المسجد وأن دم الاستحاضة رقيق ليس كدم الحيض، ويلحق بالمستحاضة ما في معناها كمن به سلس البول والمذي والودي ومن به جرح يسيل في جواز الاعتكاف. (عمدة القاري: ۳/۱۳۰، كتاب الحيض، باب الاعتكاف للمستحاضة، دار الحديث، ملتان).
وفي البحر الرائق مع الكنز: كره استقبال القبلة

والبول والتخلي

والمراد بالكراهة كراهة التحريم

وأشار المصنف رحمه الله إلى أنه لا يجوز إدخال النجاسة المسجد وهو مصرح به. (البحر الرائق مع الكنز: ۲/۳٤، كوئته).

شامی میں ہے:

ولا يدخله (المسجد) من على بدنه نجاسة. (رد المحتار: ۱/۱۷۲، سعيد).
وفيه: (قوله وإدخال نجاسة فيه) عبارة الأشباه: وإدخال نجاسة فيه يخاف منها التلويث، ومفاده الجواز لو جافه. (فتاوى الشامي: ۱/٦۵٦، سعيد).
وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲۷۷. والفتاوى الهندية: ۵/۳۲۱. والفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ۱/۲۷۷).
وفي التجنيس والمزيد: لمن أراد دخول المسجد أن يتعاهد النعل والخف عن النجاسة ثم يدخل فيه، احترازاً عن تلويث المسجد. (التجنيس والمزيد: ۱/۳۷۰. وكذا في شرح منية المصلي: ٦۱۱).

بحر میں ہے:

ذكر العلامة قاسم في بعض فتاواه أن قولهم: إن الدهن المتنجس يجوز الاستصباح به مقيد بغير المساجد فإنه لا يجوز الاستصباح به. (البحر الرائق: ۲/۳٤. وكذا في الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۱/۳۳۰، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
نجس کپڑا مسجد میں نہ رکھے اگر اس وقت کسی معرفت باہر بھیجنا یا خود رکھنا دشوار ہو تو مجبوراً مسجد میں اس طرح رکھنا کہ تلویث نہ ہو درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/۱۹۳، فاروقیہ) ۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
جوتے خشک ہوں تو مسجد ناپاک نہیں ہوتی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۲/۱۳۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.