قبضہ سے پہلے مبیع کے ہلاک ہونے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #18Urdu

Question

ایک شخص نے کوئی چیز خریدی پہنچنے سے قبل راستہ ہی میں ہلاک ہو گئی تو تاوان کس پر آئے گا؟

Answer

بصورتِ مسئولہ جب تک مشتری کو عرفاً قبضہ حاصل نہ ہو جائے بائع ہی کی ملکیت قرار دی جائے گی اور ہلاک ہونے کی صورت میں بائع پر تاوان لازم ہوگا، ہاں اگر عرفاً قبضہ حاصل ہو گیا تھا پھر ہلاک ہوئی تو مشتری اس کا ذمہ دار ہوگا۔
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

تفيد الملك بالقبض أي يثبت بالبيع أو بالشراء. (فتاوى الشامي: ٦/۱۳۰، كتاب الإكراه).

یعنی قبضہ سے ملکیت مکمل ہوتی ہے، بغیر قبضہ کے ہلاک ہو جائے تو بائع کی ملک میں ہلاک ہو گی۔
شرح مجلہ میں ہے:

المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري

وإذا هلك المبيع بعد القبض هلك من مال المشتري ولا شيء على البائع. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۲۲۳، ۲۲۵).

جدید فقہی مباحث میں ہے:
قرآن و سنت میں قبضہ کی کو ئی خاص حقیقت نہیں بتائی گئی ہے، بلکہ احادیث میں قبضہ کی مختلف کیفیات کا ذکر ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه کی ایک روایت میں مقام خریداری سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حضرت زید بن ثابت رضي الله عنه سے روایت ہے کہ تجار خرید کردہ مال کو اپنے کجاوے میں منتقل کر لیں، حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه کی روایت میں ناپ تول کو قبضہ قرار دیا گیا ہے، اسی لیے فقہاء کا اتفاق ہے کہ اس بابت لوگوں کا عرف ہی معیار ہے، جس چیز کے بارے میں جس درجہ کے عمل دخل کو لوگوں کے عرف میں قبضہ تصور کیا جائے وہی اس کے حق میں شرعاً بھی قبضہ مانا جائے گا۔
علامہ کاسانی رحمه الله فرماتے ہیں:

ولا يشترط القبض بالبراجم، لأن معني القبض هو التمكين والتخلي وارتفاع الموانع عرفاً وعادة حقيقة. (بدائع الصنائع: ۵/۱٤۸، سعيد. الفتاوى الهندية: ۳/۱٦. (جديد فقهي مباحث: ۱۵/۱۲).

فقہی مقالات میں ہے:
اسلامی شریعت کا حکم یہ ہے کہ صرف بیع ہو جانے اور ملکیت منتقل ہونے سے رسک (ضمان، خطرہ) منتقل نہیں ہوتا، جب تک اس پر خریدار کا قبضہ نہ ہو جائے، لہذا جب مبیع پر مشتری یا اس کا وکیل یا نمائندہ قبضہ نہ کر لے چاہے وہ قبضہ حقیقی ہو یا عرفی ہو اس وقت تک اس کا ضمان مشتری کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔ (فقہی مقالات، ۳/۷۳)۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
بائع نے تخلیہ کر دیا ہے اور یہ کہہ دیا ہے کہ یہ تمہارا گندم میرے گودام میں رکھا ہے تم جب چاہو اس کو اٹھا کے لے جاؤ، آج کے بعد میں اس کا ذمہ دار نہیں، اگر یہ گندم تباہ ہو جائے یا خراب ہو جائے تو تمہاری ذمہ داری ہے، اس صورت میں اگر چہ مشتری نے حسی طور پر قبضہ نہیں کیا لیکن چونکہ وہ مشتری کے ضمان میں آگیا ہے، اس لیے اب اس کا نقصان مشتری کے ذمہ ہوگا امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک یہ ہے کہ حسی قبضہ ضروری نہیں بلکہ تخلیہ کافی ہے، تخلیہ کے معنی یہ ہیں کہ مشتری کو اس بات پر قدرت دے دی جائے کہ وہ جب چاہے آ کر مبیع پر قبضہ کر لے جب قبضہ کرنے میں کوئی مانع باقی نہیں رہے تو سمجھیں گے کہ تخلیہ ہو گیا، مثلاً کوئی بکس ہے، اس کے اندر کئی چیزیں رکھی ہوئی ہیں، اس کی چابی اس کے حوالہ کر دی، تو جب چابی حوالے کر دی اب چاہے وہ اٹھائے یا نہ اٹھائے، قبضہ متحقق ہو گیا، امام بخاری رحمه الله نے یہاں امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک اختیار کیا ہے اور حضرت جابر رضي الله عنه کا واقعہ موصولاً روایت کیا ہے کہ حضرت جابر رضي الله عنه سے حضور ﷺ نے اونٹ خریدا اور پھر حضرت جابر رضي الله عنه نے اسی اونٹ پر مدینہ منورہ تک سفر کیا، حضرت جابر رضي الله عنه اس سے نہیں اترے لیکن تخلیہ متحقق ہو گیا تھا، امام بخاری رحمه الله یہ کہتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ تخلیہ سے قبضہ ہو گیا۔ (اسلام اور معاشی مسائل، ۲/۹۸، ۱۰۰)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: عطر ہدایہ، ص۸۸، ۹۱۔ و جدید معاملات کے شرعی احکام، ۱/٤۰، ٤۲۔ و قاموس الفقہ، ٤/٤٦٦، ٤٦۷)۔
خلاصہ یہ ہے کہ مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد مشتری کے ضمان میں داخل ہونے کی وجہ سے مشتری ذمہ دار ہوگا، اور قبضہ سے پہلے بائع ذمہ دار ہے، اور قبضہ کی حقیقت عرف پر مبنی ہے، نیز اشیاء کے اعتبار سے بھی فرق ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.