صیغۂ استقبال سے بیع منعقد ہونے کا حکم:
Question
زید نے عمر و سے کہا کہ یہ مال میں آپ کو ایک مہینہ کے بعد بیچوں گا، اور اگر میں نہ بیچوں تو آپ میری طرف سے وکیل بالبیع ہوں گے ۔ اس عقد کا کیا حکم ہے؟ کیا بیع ہوئی یا نہیں؟ اور نہ ہونے کی صورت میں کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ زید کا یہ کہنا کہ یہ مال ایک مہینہ کے بعد بیچوں گا یہ عقدِ بیع نہیں ہے، بلکہ وعدۂ بیع ہے، اس کی وجہ سے بیع کے احکام جاری نہیں ہوں گے، اور اس طرح وعدہ کرنا صحیح ہے، پھر اگر کسی وجہ سے زید نے وعدہ پورا نہیں کیا، اور زید نے عمر و کو بتلا دیا کہ اب بیع کا ارادہ نہیں، تم وکیل بالبیع بن جاؤ اور عمر و نے قبول کر لیا تو عمر و وکیل بالبیع بن گیا ۔
ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں ہے:
صيغة الاستقبال التي هي بمعني الوعد المجرد مثل سأبيع وسأشتري، لا ينعقد بهما البيع. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، المادة: ۱۷۱، ۱/۷۸).
شرح العنایہ میں ہے:
ولا ينعقد بلفظين أحدهما الماضي والآخر بلفظ المستقبل، وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي ﷺ استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده، فكان الانعقاد مقتصراً عليه، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعاً. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ٦/۲٤۹، دار الفكر).
ہاں زید نے جب بیع کا وعدہ کیا تو اس کو پورا کرنا چاہیے، لیکن اگر کسی وجہ سے پورا نہ کر سکا تو گنہگار نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:
وقال العلماء: يستحب الوفاء بالوعد بالهبة وغيرها استحباباً مؤكداً، ويكره إخلافه كراهة تنزيه، لا تحريم. (عمدة القاري: ۱/۳۲۹، ملتان).
قال في الهداية: كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره، لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال، فيحتاج إلى أن يوكل به غيره، فيكون بسبيل منه دفعاً للحاجة، وقد صح أن النبي ﷺ وكل بالشراء حكيم بن حزام رضي الله عنه. (الهداية: ۳/۱۷۷، كتاب الوكالة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1930
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1930