شارٹ سیل کا حکم:
Question
کیا شارٹ سیل جائز ہے یا نہیں؟
Answer
شارٹ سیل در حقیقت بیع غیر مملوک کا نام ہے یعنی بائع ایسے شیئرز فروخت کرتا ہے جو ابھی اس کی ملکیت میں نہیں ہیں، لیکن اسے یہ توقع ہوتی ہے کہ سودا ہو جانے کے بعد میں یہ شیئرز خریدار کو دے دوں گا ۔
لہذا شارٹ سیل جائز نہیں ہے ۔
جامع ترمذی میں ہے:
حدثنا قتيبة ثنا هشيم عن أبي بشر عن يوسف بن مالك عن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال: سألت رسول الله ﷺ فقلت: يأتيني الرجل فيسألني من البيع ما ليس عندي أبتاع له من السوق ثم أبيعه قال: لا تبع ما ليس عندك.
(ترمذی شریف: ۱/۲۳۳، باب ما جاء فی کراہیۃ بیع ما لیس عندہ) ۔
اس مسئلہ کی مختصر وضاحت شیئرز کی خرید و فروخت والے مسئلہ کے تحت گزر چکی ہے ۔
ہاں اگر صرف بیع کا وعدہ کر لیا جائے، حقیقۃً بیع نہ کی جائے، سامان یا شیئرز حاصل ہونے کے بعد بیع منعقد کی جائے تو یہ صورت جائز اور درست ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1962
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1962