فوریکس کا طریقۂ کار اور اس کا حکم:
Question
فوریکس کا کیا طریقۂ کار ہے؟ اور شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل.
Answer
فوریکس کا خلاصہ یہ ہے کہ زید ایک ہزار ڈالر کا بینک اکاؤنٹ کھولتا ہے تو کمپنی اس کے ساتھ ننانوے ہزار ڈالر مزید بطورِ قرض جمع کراتی ہے، پھر یہ شخص ایک لاکھ ڈالر کا کاروبار کر سکتا ہے اس کے بعد یہ شخص کسی بینک سے بذریعہ کمپنی ایک لاکھ کا ایک پلاٹ خرید سکتا ہے گویا کہ اس کی ضمانت میں ایک لاکھ ڈالر آئے پھر کچھ دنوں کے بعد ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو یہ شخص ایک لاکھ ڈالر پوند کے عوض کمپنی کے ذریعہ فروخت کرنے کے لیے ٹیلیفون کرتا ہے اور کمپنی ڈالر کو پوند کے عوض فروخت کرتی ہے، کمپنی درمیان میں درج ذیل سہولتیں مہیا کرتی ہے:
(۱) بذریعہ ٹیلیفون رابطہ، (۲) وہ مارکیٹ جہاں پر بیٹھ کر کاروبار کیا جا سکتا ہو، (۳) انٹرنیٹ سسٹم، (٤) نوے ہزار بطورِ ضمانت، اس کے علاوہ چند اور سہولتیں ۔ پھر جب ایک دفعہ کرنسی کی خرید و فروخت کی جاتی ہے تو کمپنی ایک خاص رقم بطورِ کمیشن وصول کرتی ہے، اور اگر کرنسی کے خریدنے کے بعد فروخت میں تاخیر ہو جائے تو روزانہ کے حساب سے کمپنی کچھ رقم وصول کرتی ہے ۔
ہمارے خیال میں یہ کاروبار بظاہر درست ہے ۔ لیکن اس کاروبار پر بظاہر چند اشکالات وارد ہوتے ہیں: ۔
اشکال (۱): پہلا اشکال یہ ہے کہ اس میں کرنسی پر قبضہ نہیں ہوتا ہے جب کہ کرنسی کی خرید و فروخت میں کرنسی پر قبضہ ضروری ہے یعنی خرید و فروخت کے وقت وہ رقم اس شخص یا اس کے وکیل کے پاس نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اکاؤنٹ میں تحریر کی جاتی ہے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ جب زید اس رقم سے جو اس کے اکاؤنٹ میں آ گئی، خرید و فروخت کر سکتا ہے، تو یہ قبضہ حکمی کے مترادف ہے اگر چہ حسی قبضہ متحقق نہیں ہوا ۔
معاییر شرعیہ نامی کتاب جس کو ستائیس محققینِ اربابِ فتوی نے مرتب کیا ہے اس میں مرقوم ہے:
يتحقق القبض بحصوله حقيقة أو حكماً وتختلف كيفية قبض الأشياء بحسب حالها واختلاف الأعراف وبما يكون قبضاً لها، إذا أودع في حساب العميل مبلغ من المال مباشرة أو بحوالة مصرفية إلى آخر ما قال
(معايير شرعيه، ص ۱۲۲).
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کسی کے کھاتے میں رقم کا اس طرح منتقل کر دینا کہ وہ اس میں تجارت کر سکتا ہو قبضہ حکمی ہے ۔
شرح عنایہ میں ہے:
إن الفائدة المطلوبة بالعقد إنما هي التمكن من التصرف وذلك يترتب على التعيين فلا يحتاج إلى القبض. (شرح العناية: على هامش فتح القدير: ۷/۱۸، دار الفكر).
عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل میں مرقوم ہے:
بینک کے رجسٹر میں اندراج اس شخص کے حق میں قبضہ کے حکم کے لیے معتبر ہو گا جو ایک کرنسی کو دوسری کرنسی میں تبدیل کرانا چاہتا ہو، خواہ یہ تبدیلی اس کرنسی میں مطلوب ہو جسے وہ شخص بینک کو دے رہا ہے یا بینک میں جمع کرنسی میں ہو ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، مرتب قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمہ الله، ص
۲۳۲
) ۔
اشکال (۲): دوسرا اشکال یہ ہے کہ کمپنی سے لی ہوئی رقم زید کے ذمہ دین ہے کیوں کہ صرف یہ رقم زید کے اکاؤنٹ میں لکھی جاتی ہے اور جو پوند اس نے خریدے وہ بھی اس کے اکاؤنٹ میں تحریر کیے جاتے ہیں یعنی دین ہے تو یہ بیع الدین بالدین کی وجہ سے ناجائز ہے؟
الجواب: جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ اکاؤنٹ میں رقم کا اندراج قبضہ حکمی کے مترادف ہے اور اس سے خرید و فروخت کر سکتے ہیں، یعنی تصرف پر مکمل قدرت حاصل ہے، تو پھر یہ بیع الدین بالدین کیسے ہوئی؟ بلکہ ڈالر تو پہلے ہی سے اس کے اکاؤنٹ میں مرقوم تھے اور قبضہ حکمی حاصل تھا اب پوند کے اندراج سے وہ بھی قبضہ میں آ گئے، لہذا بیع الدین بالدین کی صورت نہیں پائی گئی، اور ناجائز کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
اشکال (۳): تیسرا اشکال یہ ہے کہ جو کمیشن کمپنی وصول کرتی ہے وہ بظاہر اس دین کی وجہ سے ہے جو کمپنی نے دیا ہے لہذا یہ سودی معاملہ ہے، اس وجہ سے ناجائز ہے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دلالی کی اجرت ہے جو جانبین سے لی جاتی ہے اور جانبین سے کمیشن لینا جائز ہے، کیوں کہ کمپنی خرید و فروخت وغیرہ دوسری سہولیات فراہم کرتی ہے اس لیے سروس فیس کی اجازت ہونی چاہیے، کتب فقہ میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ جانبین سے فیصد کے حساب سے کمیشن لینا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: دلالی کی اجرت جانبین سے لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب و منہ الصدق و الصواب: جائز ہے بشرطیکہ صاف طور پر اجرت معین کر لی جائے ۔
قال في الشامية من البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك ومالا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز. (رد المحتار: كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ٦/٤۷، سعيد). (
احسن الفتاوی: ۷/۲۷۲) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (رد المحتار: ٤/۵٦۰، سعید ۔ فتاوی محمودیہ: ۲۵/۲۸٦ ۔ نظام الفتاوی: ۱/۲۹۷ ۔ و محمود الفتاوی: ۳/۸۵) ۔
لہذا یہ کمیشن لینا سود و قمار میں داخل نہیں ہے، بلکہ دلالی کی اجرت کے تحت جائز ہے ۔
(٤) مزید کمپنی یہ شرط لگاتی ہے کہ زید قرض کا مال خود کسی مارکیٹ میں استعمال کرے ۔ یہ درست ہے جیسے قرض کی حفاظت کے لیے رہن لینا یا کفیل لینا درست ہے، قرض کے لیے حوالہ اور کفالہ قرض کی توثیق کے لیے ہوتے ہیں ۔
(۵) نیز ایک اشکال یہ بھی ہوتا ہے کہ کمپنی بائع اور مشتری دونوں کے لیے وکیل ہے اب بظاہر مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی بائع اور مشتری دونوں کا وکیل بیک وقت نہیں ہو سکتا ہے ۔
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ موکل کی اجازت سے ایک شخص بائع اور مشتری دونوں کا وکیل بن سکتا ہے ۔ ملاحظہ علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
الوكيل بالبيع لا يملك الشراء لنفسه لأن الواحد لا يكون بائعاً ومشترياً فيبيعه من غيره ثم يشتريه منه، وإن أمره الموكل أن يبيعه من نفسه وأولاده الصغار أو ممن لا تقبل شهادته فباع منهم جاز. (فتاوى الشامي، باب الوكالة بالبيع والشراء، ۵/۵۲۳، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۷/۱٦۷، فصل في الوكيل بالبيع، كوئته).
(٦) اگر زید کرنسی کے فروخت میں تاخیر کر دے تو اس کو روزانہ کچھ دینا پڑے گا یہ سود ہے اس سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔ یہ شق نکالی جائے تو معاملہ درست ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2008
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2008