معیارِ شرعی سے کم میں ربا کا تحقق:
Question
فقہ کی عام کتابوں میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص نصف صاع سے کم میں سودی معاملہ کرے تو جائز ہے، مثلاً ایک لپ گندم کا آٹا دے کر دو لپ لے تو یہ جائز ہے، کیا اس پر فتوی ہے یا نہیں؟ اور یہ کام جائز ہے یا نہیں؟
Answer
شرعی معیار یعنی نصف صاع سے کم مقدار میں ہم جنس اموالِ ربویہ کا کمی بیشی کے باہمی تبادلے میں ربا کے متحقق ہونے، نہ ہونے میں ائمہ کا اختلاف ہے: ۔
(۱) امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا صورت میں ربا کا تحقق نہیں ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ربا کے متحقق ہونے کے لیے قدر یعنی کیل و وزن کا وجود ضروری ہے اور کیل کا اقل معیار شریعت نے نصف صاع مقرر کیا ہے جو یہاں مفقود ہے ۔
(۲) ائمہ ثلاثہ (امام مالک رحمه الله، امام شافعی رحمه الله اور امام احمد بن حنبل رحمه الله) اور امام محمد رحمه الله کا مذہب یہ ہے کہ اس میں بھی ربا کا تحقق ہوگا، لہذا یہ معاملہ ناجائز ہے ۔
مذہب احناف میں امام محمد رحمه الله کے قول پر فتوی ہے ۔ متاخرین فقہاء نے درجِ ذیل وجوہات کی بنا پر امام محمد رحمه الله کے قول کو ترجیح دی ہے: ۔
(الف) محقق ابن ہمام رحمه الله نے امام محمد رحمه الله کے قول کو راجح قرار دیا ہے، اور علامہ شامی رحمه الله نے اسی کو مختار کہا، نیز صاحبِ بحر و نہر اور علامہ شرنبلالی و مقدسی نے امام محمد رحمه الله کے قول پر فتوی دیا ہے ۔
(ب) نصف صاع سے اقل مقادیر معروف و مشہور ہیں اور بے شمار علاقوں میں رائج ہیں، جن میں تفاضل کو جائز کہنا فساد سے خالی نہیں بالخصوص عصر حاضر میں جب کہ ناپ تول کے جدید آلات رائج ہیں ۔
(ج) مالی ذمہ داریوں (مثلاً کفارہ، صدقۃ الفطر، وغیرہ) میں شریعت کا نصف صاع سے کم مقدار مقرر نہ کرنا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ ربا کے با ب میں تفاضل یقینی کو لغو اور بے کار قرار دیا جائے ۔ خصوصاً جب کہ اس کی حرمت یقینی ہے ۔
(د) اگر بیع الحفنہ بالحفنتین میں زیادتی کو سود قرار نہ دیں تو فسادِ زمانہ کی وجہ سے لوگ اسے اموالِ کثیرہ میں تفاضل کے حصول اور ان میں ربا کے جواز کا ذریعہ اور وسیلہ بنا لیں گے ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
وفي جمع التفاريق، قيل: لا رواية في الحفنة بقفيز واللب بالجوز، والصحيح ثبوت الربا، ولا يسكن الخاطر إلى هذا بل يجب بعد التعليل بالقصد إلى صيانة أموال الناس تحريم التفاحة بالتفاحتين والحفنة بالحفنتين، أما إن كانت مكاييل أصغر منها كما في ديارنا من وضع ربع القدح وثمن القدح المصري فلا شك، وكون الشرع لم يقدر بعض المقدرات الشرعية في الواجبات المالية كالكفارات وصدقة الفطر بأقل منه لا يستلزم إهدار التفاوت المتيقن، بل لا يحل بعد تيقن التفاضل مع تيقن تحريم إهداره، ولقد أعجب غاية العجب من كلامهم هذا، وروي المعلى عن محمد رحمه الله أنه كره التمرة بالتمرتين، وقال: كل شيء حرم في الكثير فالقليل منه حرام. (فتح القدير: ۷/ ۹، دار الفكر).
وهكذا في البحر الرائق: ٦/ ۱۳۰، كوئته. ورد المحتار: ۵/ ۱۷٦، سعيد. والنهر الفائق: ۳/ ٤۷۵. والشرنبلالية: ۲/ ۱۸۷. وحاشية الشلبي على التبيين: ٤/ ۹۰، ملتان. وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/ ۱۰۹، كوئته).
فتح المعین میں ہے:
تتمة: ما سبق من أن أدني ما يكون مال الربا نصف صاع ليس متفقاً عليه
ثم قال: ويجوز بيع الحفنة بالحفنتين خلافاً للشافعي رحمه الله ومحمد رحمه الله
فعلى ما ذكره الكمال من أن الفضل المتيقن حرام وإن لم يدخل تحت أدني الكيل الذي ورد الشرع به وهو نصف صاع
ومن هنا يعلم ثبوت الحرمة بالطريق الأولى فيما إذا اتخذ بيع الحفنة بالحفنتين وسيلة إلى بيع نحو الكر بالكرين. (فتح المعين لابي السعود على شرح الكنز لملا مسكين: ۲/ ٦۰۲).
شرح نقایہ میں ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:
(وجاز بيع حفنة بحفنتين) وعند مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله وأحمد رحمه الله لا يجوز ذلك إلا في رواية عن مالك رحمه الله، ورواية عن أحمد وروى المعلى عن محمد رحمه الله أنه كره التمرة بالتمرتين وقال: كل شيء حرم في الكثير فالقليل منه حرام، وإلى هذه الرواية مال بعض المحققين. (فتح باب العناية في شرح النقاية: ۳/ ۲٦۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2029
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2029