سودی رقم رفاہِ عام میں لگانے کا حکم:
Question
کیا سود کی رقم سے فقراء و مساکین کے لیے کنواں کھودنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اسی طرح مدرسہ کی دیوار وغیرہ بنانے میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز دیگر رفاہِ عام و خیراتی امور میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل.
Answer
اس مسئلہ میں علماء عظام اور مفتیانِ کرام کا اختلاف ہے، اکثر مفتی حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سود کی رقم کنواں کھودنے میں خرچ نہ کرے، بلکہ بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کر دے، ہاں ہندوستان کے بعض مفتی حضرات مثلاً سید مفتی عبد الرحیم لاجپوری رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ سود کی رقم رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کی جا سکتی ہے، لیکن احتیاط اکثر کے قول پر عمل پیرا ہونے میں ہے، تاہم اگر کسی نے خرچ کر لی تو گنجائش ہے ۔ اگر کنواں کھودنا یا دیگر امورِ خیر میں صرف کرنا ضروری ہی ہو تو یہ تدبیر کر سکتے ہیں کہ کسی فقیر کو سودی رقم دے کر یہ کام کروا لیا جائے ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مسئلہ مختلف فیہ ہے، غریب مسکین کو دینا اولی ہے، سڑک وغیرہ رفاہِ عام کے کاموں میں لگانے کی گنجائش ہے، مسجد میں نہیں لگا سکتے، مسجد کی بیت الخلاء کی مرمت میں لگا سکتے ہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۷۹) ۔
مفتی عبد الرحیم صاحب رحمہ اللہ کے اس فتوے پر مفتی اسماعیل کچھولوی صاحب نے اشکال کیا تو مفتی عبد الرحیم صاحب رحمہ اللہ نے اکابرین علماء کے فتاوی بطورِ تائید شامل کیے ۔ مثلاً مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحب کے فتاوی، حضرت مفتی سعید احمد مفتی اعظم مظاہر علوم کا فتوی، شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا فتوی، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کا فتوی، وغیرہ ۔ تفصیل کے لیے، ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۵٦ ۔ ۲٦۰) ۔
اسلامی فقہ میں ہے:
اگر مجبوراً آدمی کو بینک وغیرہ میں روپیہ جمع کرنا پڑے اور اسے سود ملے تو اسے اپنی ذات اور بال بچوں پر استعمال نہ کرے، بلکہ بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دے دے یا کسی معتبر آدمی کے ذریعہ کسی رفاہی کام میں اسے لگا دے، مثلاً محلہ یا گاؤں کے راستے اور عام پا خانے وغیرہ میں لگا دے ۔ (اسلامی فقہ: ۲/۳٦۹) ۔
حضرت مفتی محمد تقی صاحب نے فتاوی عثمانی میں ایک جگہ فرمایا:
سود کی رقم اپنی جان چھڑانے کی نیت سے کسی فقیر یا مسکین کو صدقہ کر دیں، اس میں بھی مالک بنا کر دینا ضروری ہے، تعمیر وغیرہ رفاہی کاموں میں یہ رقم استعمال نہیں ہو سکتی ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۲۷۹) ۔
لیکن دوسری جگہ تحقیقی فتوی تحریر فرمایا ہے کہ رفاہِ عام میں سود کی رقم خرچ کرنا جائز اور درست ہے، اور حضرت حکیم الامت کے فتوے سے بھی استدلال فرمایا ہے کہ ان کے نزدیک بھی سودی رقم واجب التصدق ہے واجب التملیک نہیں ہے، اور حضرت مفتی رفیع صاحب نے بھی اس فتوے سے اتفاق کیا ہے ۔
بطورِ خلاصہ چند امور حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
٭ حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے فرمایا اس قسم کا مال بحکمِ لقطہ ہے اور لقطے کا حکم یہ ہے کہ وہ اصل مالک کی طرف سے صدقہ نافلہ ہے، اس میں تملیک ضروری نہیں ۔ (
الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳۳۸، سعيد. وشرح منظومه ابن وهبان: ۱/۸۸).
٭ ملکِ خبیث کا واجب التملیک ہونا فقہائے مذہب کی کتابوں میں کہیں صراحت کے ساتھ نہیں بلکہ اس پر لفظ تصدق سے استدلال کیا گیا ہے ۔
٭ ملکِ خبیث جو واجب التصدق ہو وہ مصرف کے لحاظ سے زکوۃ کی طرح نہیں، بلکہ متعدد جہات سے فرق ہے، چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ مال اپنی بیوی اور اولاد کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔ (
حاشية الحموي على الأشباه: ۲/۱۰٦. والدر المختار مع رد المحتار: ٤/۲۷۸).
(لیکن بیوی بچوں کو دینے میں یہ اشکال ہے کہ یہ صدقہ صاحبِ مال کی طرف سے ہے ملتقط صرف واسطہ ہے، ہاں میت کے کفن دفن میں خرچ کرنے کے جواز سے پتا چلتا ہے کہ اس میں تملیک ضروری نہیں کیوں کہ تکفین و تدفین میں تملیک نہیں پائی جاتی ۔)
٭ ظاہر الروایہ کے مطابق یہ مال بنی ہاشم کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔ (
الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳۵۱، سعيد).
٭ زکوۃ غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ہے، لیکن یہ مال غیر مسلم کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔ (
شامي: ٤/۳۵۱، سعيد. وفتاوى دار العلوم زكريا: ۳/۲۲۰).
٭ کسبِ خبیث کے مصارف میں فقراء کی تخصیص صرف احناف کے ہاں ہے، دیگر ائمہ اس کو عام مصالح میں خرچ کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ (
المعيار المعرب: ٦/۱٤٦، بيروت. والذخيرة: ۵/۱٦۷، بيروت. وشرح المهذب: ۱۰/۵۲۰، بيروت. ونهاية المحتاج: ۵/۱۸۵).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی عثمانی: ۳/۱۲۸ ۔ ۱٤۰) ۔
علاوہ ازیں دیگر علماء عدمِ جواز کی طرف گئے ہیں، ان کے فتاوی بھی ملاحظہ فرما لیں:
مفتی اعظم پاک و ہند حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
تملیک فقراء و مساکین ضروری ہے بناءِ مدارس و دیگر اوقاف و مبرات میں صرف کرنا ان اموال کا جائز نہیں اور دلیل عبارتِ ذیل ہے:
(۱) اس قسم کے اموال میں فقہاء کی عبارات دو طرح پر منقول ہیں، بعض میں
"تصدق به"،
یا "
وجب عليه التصدق"
اور بعض میں
"تصدق على الفقراء والمساكين"
اوقاف و مبرات پر خرچ کرنا کہیں منقول نہیں ۔
(۲) لفظ صدقہ اور تصدق جب بولا جاتا ہے تو عرفِ فقہاء میں وہ واجب التملیک ہوتا ہے ۔
تفصیلی دلائل کے لیے ملاحظہ ہو: (امداد المفتین: جلد دوم، ص ۳۸۳ ۔ ۳۸٦، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اس کول کی تعمیر اور پیشاب خانے وغیرہ مستحق نہیں ہوتے جو کہ تصدق کا حاصل ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے، مستحق کو مالک بنا کر دیا جائے، پھر وہ جو دل چاہے، جہاں چاہے خرچ کرے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۸٦، مبوب و مرتب) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
سود کی رقم بغیر نیتِ صدقہ کے کسی ضرورت مند محتاج کو دے دیجیے، کسی کارِ خیر میں اس رقم کا لگانا جائز نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲٤۲) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
سود کی رقم کسی ضرورت مند کی انفرادی ضرورت کی تکمیل میں لگائی جا سکتی ہے، کسی اجتماعی فائدہ کا کام کر دینا جیسے کنواں کھودنا وغیرہ ۔ مسجد وں اور مدرسوں میں تو یہ رقم نہ لگائی جائے لیکن بیت الخلاء کی تعمیر کی علماء نے اجازت دی ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: جلد اول، ص ۲۵۳) ۔
گویا کہ مولانا خالد سیف اللہ صاحب کے نزدیک رفاہِ عام میں لگانا جائز ہے فقط مسجد مدرسہ میں نہ لگائے، لیکن پھر مسجد و مدرسہ کی بیت الخلاء بنانے کی اجازت ہے ۔
محمود الفتاوی میں ہے:
سود کو اس کے وبال کو دور کرنے کی نیت سے (بلا نیتِ ثواب) غرباء و مساکین کو بطورِ تملیک دے دیا جائے، گڑیوجنا میں یہ رقم نہ دی جائے ۔ (محمود الفتاوی: ۳/٦٤، باب الربا) ۔
بہرحال دونوں طرف اکابر علماء ہیں لہذا جس پر چاہے عمل کرنے کی گنجائش ہے، تاہم عمل بر احتیاط اولی ہے، اور بہ حیلہ و تدبیر رفاہِ عام میں خرچ کرنا مبنی بر احتیاط ہے ۔
ملاحظہ ہو نظام الفتاوی میں ہے:
تملیک مستحق کے حیلہ کے بعد مسجد کے پا خانہ کی صفائی وغیرہ میں بھی استعمال کرنا درست ہوگا، اور حیلہ تملیک یہ ہے کہ جتنی رقم سود کی ہے وہ غرباء و مساکین کو جو مستحق صدقہ ہوں دے کر اس کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ مستحق صدقہ اپنی طرف سے بطورِ چندہ مسجد میں دے دے ۔
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير، ثم يأمره بفعل هذه الأشياء. الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳٤۵، كتاب الزكاة، باب المصرف، سعيد. (نظام الفتاوى: ۱/۱۹۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2038
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2038