انشورنس کرانے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 5 #195Urdu

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک جماعت کی ملکیت میں کچھ مکانات ہیں ان گھروں کو اسی طرح اسکول، مدرسہ اور مساجد کی عمارتوں کو انشورنس کرانا جائز ہے یا نہیں اگر جائز نہیں تو عدمِ جواز کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر کسی نے کرایا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

فی زماننا انشورنس (insurance) کا معاملہ جن بنیادوں پر استوار ہے ان کے تحت شرعی نقطہ نظر اور اصول و قواعد کی روشنی میں کسی بھی قسم کی املاک اور جائیداد کو انشورنس کرانا جائز نہیں ہے ۔ اور عدمِ جواز کا حکم دو ایسے محرمات کے پائے جانے کی وجہ سے ہے جن کی تحریم نصوصِ قطعیہ کتاب و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت اور ظاہر و باہر ہے، چنانچہ وہ دو مفاسد ربا اور قمار کا پایا جانا ہے، جس کی بنا پر یہ معاملہ ناجائز ہے ۔
ربا تو اس وجہ سے کہ جو رقم انشورنس کمپنی کو ادا کی جا رہی ہے فقہی نقطۂ نظر سے اس کی حیثیت قرض کی ہے اور اس کی واپسی پر جو منافع ساتھ ملتے ہیں وہ گویا اس مہلت کا معاوضہ ہے جو قرض کی واپسی کے لیے مقرر کی گئی تھی، اگر چہ انشورنس کمپنی اصل رقم کے ساتھ جو منافع دیتی ہے اسے بونس (Bonus) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے لیکن اس کی حقیقت چونکہ "سود" کی ہے اس لیے نام بدلنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی ہے چنانچہ اسی حقیقت کے بارے میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله رقم طراز ہیں:
ظاہر ہے کہ محض نام بدل دینے سے کسی معاملہ کی حقیقت نہیں بدلتی، بیمہ کمپنی کے منافع بلا شبہ سود و ربا کی تعریف میں داخل ہیں" ۔ (جواہر الفقہ: ۲/۱۸۱) ۔
اور بے شمار نصوصِ قطعیہ ربا کی حرمت پر موجود ہیں ۔
دوسرا مفسدہ اس میں "قمار" کا پایا جانا ہے، وہ اس طرح کہ قمار کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں طرف مال ہو اور نفع اور نقصان کسی غیر معین اور غیر معلوم چیز پر معلق ہو، اسی کو فقہاءِ کرام رحمه الله "خطر اور مخاطرہ" سے تعبیر کرتے ہیں علمائے امت نے قمار کے بارے میں جو قاعدہ لکھا ہے وہ یہ ہے:

تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (جواهر الفقه: ۲/۲۲۷، وإمداد الفتاوى: ۳/۱٦۱).

چنانچہ ابو بکر جصاص رازی رحمه الله رقم طراز ہیں:

لا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وإن المخاطرة من القمار قال ابن عباس رضي الله عنه: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه. (أحكام القرآن: ۱/۳۲۹، باب تحريم الميسر، وكذا في أحكام القرآن للتهانوى رحمه الله: ۱/۳۹۳).

فتاوی شامی میں ہے:

وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص. (رد المحتار: ٦/٤۰۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).

مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله معارف القرآن میں فرماتے ہیں:
تمام صحابہ و تابعین اس پر متفق ہیں کہ میسر میں قمار یعنی جوئے کی تمام صورتیں داخل اور سب حرام ہیں، ابن کثیر رحمه الله نے اپنی تفسیر میں اور جصاص رحمه الله نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے کہ مفسر القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه اور ابن عمر رضي الله عنه اور قتادہ رضي الله عنه اور معاویہ بن صالح رضي الله عنه اور عطاء رحمه الله اور طاؤس رحمه الله نے فرمایا:

الميسر القمار حتى لعب الصبيان بالكعاب والجوز،
یعنی ہر قسم کا قمار میسر ہے، یہاں تک کہ بچوں کا کھیل لکڑی کے گٹکوں اور اخروٹ وغیرہ کے ساتھ ۔ (معارف القرآن: ۱/۵۳۲) ۔
فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمه الله میسر کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

وقال عطاء ومجاهد: الميسر القمار كله حتى لعب الصبيان بالجوز والكعاب. (تفسير السمرقندي: ۱/۲۰۳).

اور انشورنس کمپنی میں بھی حادثہ کی صورت میں مال پر حاصل ہونے والی منفعت کا حصول اور عدمِ حصول خطرہ میں ہوتا ہے اس لیے یہ بھی قمار میں داخل ہے، اور قمار کی حرمت پر نصوصِ قطعیہ موجود ہیں ۔
ملاحظہ ہو قرآن کریم میں ہے:

﴿إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون﴾. (المائدة، الآية: ۹۰).

امام دار الہجرت حضرت مالک بن انس رحمه الله اس قسم کے ایک معاملہ کی مثال دے کر اس کا حکم تحریر فرماتے ہیں:

أن يعمد الرجل إلى الرجل قد ضلت راحلته أو دابته أو غلامه وثمن هذه الأشياء خمسون دينار فيقول: أنا آخذها منك بعشرين ديناراً فإن وجدها المبتاع ذهب من مال البائع بثلاثين ديناراً وإن لم يجدها ذهب البائع منه بعشرين ديناراً وهما لا يدريان كيف يكون حالهما في ذلك ولا يدريان أيضاً إذا وجدت تلك الضالة كيف تؤخذ وما حدث فيها من أمر الله مما يكون فيه نقصها وزيادتها فهذا أعظم المخاطرة. (المدونة الكبرى: ۳/۲۵٤، كتاب الغرر، دار الفكر).

ایک شخص دوسرے شخص کے پاس جائے جس کا اونٹ یا کوئی جانور یا غلام گم ہو گیا ہو اور ان کی قیمت مثلاً پچاس دینار ہو وہ جا کر اس سے کہے میں تم سے اس گم شدہ چیز کو بیس دینار میں خریدتا ہوں سو اگر خریدنے والے کو گم شدہ چیز مل جاتی ہے تو مالک کو تیس دینار کا نقصان ہوگا اور اگر نہیں ملتی تو اس کو بیس دینار مفت مل جائیں گے، ان دونوں کو معاملہ کرتے وقت کچھ نہیں معلوم کہ کیا ہوگا وہ چیز ملتی ہے یا نہیں اور اگر ملتی بھی ہے تو کس حال میں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس میں کیا زیادتی کمی ہو چکی ہے، اس طرح کا معاملہ کرنا بہت بڑا خطرہ اور دھوکہ ہے ۔
اس مثال میں یہی بتایا گیا ہے کہ ایسا معاملہ جس میں انجام کے اچھے یا برے دونوں طرح کے ہونے کا احتمال ہو، شرعاً درست نہیں، ایسا ہی معاملہ انشورنس کا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ انشورنس کمپنی سودی کمپنی ہے اس میں رقم جمع کرانا اور مسجد یا مدرسہ کی جائیداد کو یا جماعت کی کسی عمارت کو انشورنس کرانا شرعاً جائز نہیں، اگر کسی جماعت نے غلطی سے انشورنس کرا لیا ہو تو صرف اپنی جمع شدہ رقم ہی واپس لیں زائد ہرگز نہ لیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.