انشورنس کمپنی کا ایجنٹ بننے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #202Urdu

Question

زید کئی کمپنیوں کی طرف سے انشورنس ایجنٹ ہے وہ کمپنیاں طویل المیعاد اور قصیر المیعاد انشورنس کا کام کرتی ہیں، اور یہ بات ظاہر ہے کہ کمپنیوں کے لیے گاہک فراہم کرنے سے کمپنیاں اسے کمیشن دیتی ہیں، اور انشورنس کی اکثر کمپنیاں سودی کاروبار میں ملوث ہیں، تو کیا ایسی ایجنسی جائز ہے یا نہیں؟ اور کمیشن لینے کا کیا حکم ہے؟

Answer

آج کل انشورنس کی اکثر کمپنیوں کے کاروبار سود اور قمار پر مشتمل ہیں، لہذا سودی کمپنی کی ایجنسی جائز نہیں ہے اور سودی کمپنی کی طرف سے ملنے والا کمیشن بھی ناجائز ہے اس سے بچنا چاہیے، ہاں جو کمپنیاں اکثر حلال کاروبار کرتی ہیں ان میں حصہ لینے کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو قرآن کریم میں ہے:

﴿أحل الله البيع وحرم الربا﴾ (سورة البقرة).
وقال تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين﴾ (سورة البقرة:).
وقال تعالى: ﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾ (سورة المائدة: ۲).
وعن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهده وقال هم سواء. (رواه مسلم: ۲/۲۷، باب الربا).

جدید فقہی مسائل میں ہے:
انشورنس اصل میں سود اور جوئے سے خالی نہیں اس لیے مسلمان کے لیے انشورنس کمپنی کی ایجنسی لینا اور اس کو ذریعہ معاش بنانا جائز نہیں ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/٤۳۸، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲۵۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.