قیمت کم ہونے پر زیادہ وصول کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #226Urdu

Question

میں نے زید کو ۱۰۰۰ رینڈ بطورِ قرض دیے اور ایک سال کی مدت طے ہوئی، اب سوال یہ ہے کہ زید ایک سال کے بعد جب مجھے ادا کر رہا ہے تو اس کی قیمت ایک ہزار نہیں بلکہ کم ہو گئی، تو اب ایک ہزار گزشتہ قیمت پر وصول کروں تو یہ ربا ہے اور اگر موجود ہ قیمت پر ایک ہزار وصول کروں تو مجھے نقصان ہوگا، تو کیا کوئی صورت ایسی ہے کہ میں نقصان سے بھی بچ جاؤں اور ربا بھی متحقق نہ ہو؟

Answer

بصورتِ مسئولہ آپ صرف ہزار رینڈ جو آپ نے دیے تھے واپس لے سکتے ہیں اس سے زائد لینے کی اجازت نہیں، کیوں کہ قرض میں زیادہ لینے سے ربا متحقق ہوتا ہے، اور قرض میں مدت ختم ہونے کے بعد مثلی چیز کو لوٹایا جاتا ہے، اسی وجہ سے قیمتی چیزوں میں قرض جائز نہیں، اور ثمن اصطلاحی مثلی چیز کے حکم ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار مع فتاوی الشامی میں ہے:

(القرض هو عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) (وصح القرض في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره)، (قوله في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض

واستقراض من الفلوس الرائجة والعدالي

وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة لغلا ئه ورخصه. وفي كافي الحاكم، لو قال أقرضني دانق حنطة فأقرضه ربع حنطة، فعليه أن يرد مثله إلى أن قال وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ولا إلى رخصها، وفي الفتاوى الهندية: استقرض حنطة فأعطي مثلها بعد ما تغير سعرها يجبر المقرض على القبول. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/۱٦۱، ۱٦۲، باب القرض، سعيد).

نیز یہ مسئلہ غصب کی طرح ہے، اگر غاصب نے کوئی چیز غصب کر لی پھر اس چیز کی قیمت کم ہو گئی اور جب واپس کر رہا ہے تو اسی چیز کو واپس کرنا ضروری ہے اس چیز کی قیمت میں کمی بیشی کا اعتبار نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

ولو وجده المغصوب في بلد الغصب ونقص السعر يأخذ العين لا القيمة يوم الغصب. (فتاوى الشامي: ٦/۱۸۲، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

بخلاف تراجع السعر إذا رد في مكان الغصب لأنه عبارة عن فتور الرغبات دون فوات الجزء. (الهداية: ۳/۳۷۵).

ہاں اگر آپ نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ تدبیر کر سکتے ہیں کہ سونا مثلاً گرو گر رینڈ قرض میں دیں، اور مدت ختم ہونے کے بعد اسی کو وصول کریں، کیوں کہ عام طور پر سونے کی قیمت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی رہتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.