مقروض کے نفلی صدقہ کا حکم:
Question
کیا مقروض آدمی نفلی صدقہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیا صدقہ کرنے پر ثواب ملے گا یا گنہگار ہوگا؟
Answer
نفلی صدقہ نفل کے درجہ میں ہے اور قرض فرض کے درجہ میں ہے، لہذا فرض کو پہلے ادا کرنا چاہیے ادا کرنا چاہیے ہاں اگر مقروض آدمی قرض کی ادائیگی کا بھی اہتمام کرتا ہے اور ساتھ ساتھ نفلی صدقہ بھی دیتا ہے تو اس کو صدقہ کا ثواب ملے گا ۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:
ومن تصدق وهو محتاج أو أهله محتاج أو عليه دين فالدين أحق أن يقضي من الصدقة والعتق والهبة
والمعني أن شرط التصدق أن لا يكون محتاجاً ولا أهله محتاجاً ولا يكون عليه دين فإذا كان عليه دين فالواجب أن يقضي دينه، وقضاء الدين أحق من الصدقة والعتق والهبة لأن الابتداء بالفرائض قبل النوافل، وليس لأحد إتلاف نفسه وإتلاف أهله وإحياء غيره، وإنما عليه إحياء غيره بعد إحياء نفسه وأهله إذ هما أوجب عليه من حق سائر الناس. (عمدة القاري: ٦/٤۰۱، باب لا صدقة الا عن ظهر غني، ملتان).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "من أخذ أموال الناس يريد أداء ها أدي الله عنه، ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله". (رواه البخاري: ۱/۳۲۱، باب من أخذ أموال الناس).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
یہ چندہ نفل کے درجہ میں ہے اور قرض ادا کرنا فرض اور قرض ادا کرنا فرض ہے، اگر فرض ذمہ میں باقی رہتے ہوے کوئی شخص نفل پڑھتا ہے تو اس کو ثواب بھی ملتا ہے اور قرض کی تاخیر پر باز پرس بھی ہے، لہذا یہ کہنا کہ ثواب نہیں ملے گا صحیح نہیں، البتہ قرض کی ادائیگی کا اہتمام چاہیے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱٦
/
٤۲٤
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2093
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2093