تعلیمی فیس ادا کرنے کے لیے سودی قرض لینے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #235Urdu

Question

اگر مال دار آدمی اپنے بیٹے کے جامعہ کی فیس ادا کرنے کے لیے مالِ ربا سے قرض لے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
بينوا توجروا ولكم الأجر الجزيل.

Answer

اگر اموالِ ربویہ سے قرض لینے کا مطلب یہ ہو کہ قرض بینک سے لیتا ہے اور اس پر سود ادا کرے گا تو یہ درست نہیں کیوں کہ جامعہ کی تعلیم فرض نہیں اور نہ انتہائی مجبوری ہے کہ اس کے لیے ناجائز کا ارتکاب کیا جائے، اور اگر یہ مطلب ہو کہ کسی کے پاس سود کی رقم پڑی ہے اور باپ اپنے بیٹے کے لیے وہی سودی رقم بطورِ قرض لیتا ہے حالانکہ بیٹا باپ دونوں مال دار ہیں تو سودی رقم فی الفور واجب التصدق ہے اس کو قرضوں میں چلانا صحیح نہیں، ہاں اگر بیٹا فقیر ہے صاحبِ نصاب نہیں اور اس کو تملیکاً سود کی رقم ملی تو صحیح ہے پھر وہ اس کو کہیں بھی استعمال کر سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.