میراث پر قبضہ کرنے سے پہلے ہبہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #291Urdu

Question

ایک آدمی کا انتقال ہوا اور ترکہ میں ایک گھر چھوڑا جو ابھی غیر مقسوم تھا اور ورثاء میں سے ایک شخص نے اپنا حصہ اپنی بہن کو ہبہ کر دیا، اب اس آدمی کا انتقال ہو گیا، دوسرے ورثاء اس ہبہ کو قبول نہیں کرتے جب کہ موہوب لہا کے پاس گواہ بھی موجود ہیں، تو کیا ہبہ صحیح ہوا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ وارث کے لیے جائز ہے کہ میراث پر قبضہ کرنے سے پہلے حقِ ساقط کر دے یا دوسرے کی طرف منتقل کر دے، اور آج کل یہاں کے مکانات مشاع ناقابل تقسیم کی طرح ہیں، لہذا اس میں سے اپنا حصہ بغیر تقسیم کے ہبہ کیا جا سکتا ہے، اور گواہ موجود ہونے کی وجہ سے مذکورہ ہبہ مکمل ہو گیا اب اس حصہ میں دوسرے ورثاء کا حق نہیں ۔
ملاحظہ ہو الاشباہ و النظائر میں ہے:

وذكر الشيخ الإمام المعروف بـ "خواهر زاده" أن حق الموصي له وحق الوارث قبل القسمة غير متأكد يحتمل السقوط بالإسقاط، انتهى. (الأشباه والنظائر: ۱/۲۷۲).

فتاوی شامی میں ہے:

وحق الوارث قبل القسمة يسقط بالإسقاط. (فتاوى الشامي: ۵/٦٤۲، فصل في التخارج، سعيد).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

وفيما لا يقسم كالعبد والدابة والثوب والحمام يجوز هبة المشاع من الشريك وغيره في قولهم. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/۲٦۷، كتاب الهبة، في هبة المشاع).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
جن اشیاء کی تقسیم ممکن نہ ہو مثلاً جانور ان کا ہبہ تقسیم سے پہلے صحیح ہے ۔

قال العلامة الخوارزمي رحمه الله: هبة المشاع فيما لا يقسم جائزة يعني به مالا يحتمل القسمة أي لا يبقي منتفعاً بعد القسمة أصلاً كعبد واحد أو دابة واحدة. (الكفاية شرح الهداية على هامش فتح القدير: ۷/٤۸۸، كتاب الهبة).
(جدید معاملات کے شرعی احکام: جلد دوم، ۸۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.