کرایہ کے مکان کی مرمت کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #303Urdu

Question

بعض حضرات نے ایک مکان کرایہ پر لیا تھا، کرایہ دار نے مالکِ مکان کی اجازت سے مکان میں کچھ تصرفات کر لیے تھے، مثلاً دروازہ دوسری جانب منتقل کر لیا وغیرہ، لیکن پہلے سے یہ بھی طے ہو چکا تھا کہ جو تصرفات کرایہ دار نے کیے ہیں مکان واپس کرتے وقت کرایہ دار خود اپنے پیسے سے ٹھیک کرا دے گا، اب اکتوبر میں اس مکان سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے، لیکن سامان وغیرہ اسی مکان میں موجود ہے، اور مکان کی چابیاں بھی کرایہ دار کے پاس ہیں، دسمبر میں مکان واپس کرنا طے پایا تھا اور کرایہ بھی دسمبر تک ادا کرنا منظور ہوا تھا ادا کرنا منظور ہوا تھا، نیز مکان ٹھیک کرنے وعدہ بھی ہو گیا تھا، لیکن نومبر میں بحکم مالکِ مکان کرایہ دار نے سامان فوری طور پر منتقل کر لیا اور مالک نے قفل وغیرہ بھی بدل دیے یعنی مکان مکمل اپنے قبضہ میں لے لیا اور یہ بھی بتلا دیا کہ مرمت میں خود کر لوں گا اور قیمت آپ ادا کر دیں گے ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
(۱) پورے مکان کی مرمت کرایہ دار کے ذمہ ہے یا صرف جو تصرف کیا تھا اسی کی مرمت ضروری ہے؟
(۲) اگر مالکِ مکان ٹھیک کرنے کے بعد قیمت طلب کرے تو کون سی قیمت واجب ہو گی؟ درمیانی یا اعلی؟
(۳) دسمبر کا کرایہ لازم ہے یا نہیں جب کہ مکان نومبر سے مالک کے اختیار و قبضہ میں ہے؟

Answer

بشرطِ صحتِ سوال، صورتِ مسئولہ میں: (۱) مکان میں جو تصرفات کرایہ دار نے کیے تھے ان تمام تصرفات کا ٹھیک کرانا کرایہ دار کے ذمہ لازم ہے ۔ اس لیے کہ کرایہ دار نے اس کا عہد کیا تھا اور یہ تصرفات اپنے فائدے کے لیے کیے تھے، مالک کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ۔ ان کے علاوہ مکان کی مرمت وغیرہ کرایہ دار پر لازم اور ضروری نہیں ہے، بلکہ مالکِ مکان خود اس کا ذمہ دار ہے ۔
(۲) اگر مالکِ مکان نے خود ٹھیک کرا لیا اور قیمت طلب کی تو کرایہ دار پر صرف اپنے کیے ہوے تصرفات کی قیمت لازم ہو گی، دیگر مکان کی مرمت مثلاً چھت کا ٹھیک کرانا وغیرہ کی قیمت کرایہ دار پر لازم نہیں ۔ اور عام طور پر بازار میں جو قیمت رائج ہو اس کے مطابق درمیانی قیمت ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہے اعلی قیمت ادا کرنا کرایہ ادا کرنا کرایہ دار پر لازم اور ضروری نہیں ہے ۔
(۳) نومبر میں مالک نے مکان اپنے قبضہ و اختیار میں لے لیا تھا اس وجہ سے دسمبر کا کرایہ لازم نہیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وعمارة الدار المستأجرة وتطيينها وإصلاح الميزاب وما كان من البناء على رب الدار، وكذا ما يخل بالسكنى. (الدر المختار: ٦/۷۹، باب فسخ الإجارة، سعيد).

شرح مجلہ میں ہے:

أقول: إصلاح ما كان من البناء متى كان تركه مخلاً بالسكني يجب على المالك بلا فرق بين السطح والجدران

وفي الهندية عن البدائع: وإصلاح بئر الماء والبالوعة والمخرج على رب الدار، ولا يجبر على ذلك وإن كان امتلأ من فعل المستأجر، وقالوا: في المستأجر إذا انقضت مدة الإجارة وفي الدار تراب من كنسه، فعليه أن يرفعه لأنه حدث بفعله فصار كتراب وضعه فيها، وإن كان امتلأ خلاؤها ومجاريها من فعله، فالقياس أن يكون عليه نقله، لأنه حدث بفعله فيلزمه نقله كالكناسة والرماد، إلا أنهم استحسنوا وجعلوا نقل ذلك على صاحب الدار للعرف والعادة بين الناس أن ما كان مغيباً في الأرض فنقله على صاحب الدار، فحملوا ذلك على العادة، وإن أصلح المستأجر شيئاً من ذلك لم يحتسب له بما أنفق وكان متبرعاً

وفي الأنقروية عن البزازية: خرج المستأجر من البيت وفيه تراب ظاهر أو رماد، على المستأجر إخراجه، بخلاف البالوعة، فإنه يلزم المؤجر تفريغها استحساناً، وإن شرط على المستأجر عند العقد جاز، وأنه موافق للعقد، أي وإن كان العرف بخلافه، لأنه حدث بفعله، فالشرط الموافق للقياس وإن كان مخالفاً للعرف، لا يفسد العقد، تأمل. (شرح المجلة للأتاسي: ۲/٦۲۲، المادة: ۵۲۹).

شرح مجلہ میں ہے:

يلزم مراعاة الشرط بقدر الإمكان، أي إمكان الشرط واستطاعته، ولا يلزم ما فوق الاستطاعة

أن الشروط ثلاثة أقسام: قسم يجوز شرعاً، فيه فائدة لمن اشترطه، فهذا يلزم مراعاته

وقال في البدائع من كتاب المضاربة: الأصل في الشروط اعتبارها ما أمكن، وإذا كان القيد مفيداً كان ممكن الاعتبار فيعتبر لقوله عليه الصلاة والسلام: "المسلمون عند شروطهم". (شرح المجلة للأتاسي: ۱/۲۳٦، المادة: ۸۳).
وفيه أيضاً: لا يلزم المستأجر إطعام الأجير إلا أن يكون العرف في البلدة كذلك، حتى لو كان ذلك متعارفاً لا يكون اشتراطه على المستأجر مفسداً للعقد على ما قاله الفقيه أبو الليث، كما في الحموي على الأشباه، قال في رد المحتار: ثم ظاهر كلام الفقيه أنه لو تعورف ذلك في علف الدابة يجوز، تأمل، والظاهر أنه يلزم المستأجر حينئذٍ أن يطعمه من أوسط الطعام. (شرح المجلة للأتاسي: ۲/٦۷۵، المادة: ۵۷٦).
وفيه أيضاً: تلزم الأجرة أيضاً في الإجارة الصحيحة بالاقتدار على استيفاء المنفعة، مثلاً لو استأجر أحد داراً بإجارة صحيحة فبعد قبضها يلزمه إعطاء الأجرة وإن لم يسكنها. ولابد لهذه المسألة من قيدين آخرين: أحدهما أن يكون التمكن من استيفاء المنفعة في المدة التي ورد عليها العقد

قال في الهندية: فأما إذا لم يتمكن من الاستيفاء أصلاً

لا يجب الأجر

واستفيد من لفظ الاقتدار أنه لو منعه المالك

لا تجب الأجرة، كما صرح به في رد المحتار عن النهاية. (شرح المجلة للأتاسي: ۲/۵۵٤، المادة: ٤۷۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.