شادی کا ہال غیر مسلم کو کرایہ پر دینے کا حکم:
Question
کیا مسلمان اپنا شادی کا ہال کسی غیر مسلم کو کرایہ پر دے سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ یہ یقینی بات ہے کہ غیر مسلم اس ہال میں ناچ گانا بجنا وغیرہ محرمات کا ارتکاب کریں گے ۔
Answer
امام صاحب رحمه الله کے نزدیک غیر مسلم کو ہال کرایہ پر دینا جائز ہے، اور صاحبین رحمه الله کے نزدیک مکروہ ہے، نیز ہمارے اکابر رحمه الله کے فتاوی میں اختلاف ہے، حضرت مفتی رشید احمد صاحب نے اختلاف کو دفع کرتے ہوے فرمایا غیر مسلم کو دینے میں کراہتِ تنزیہیہ ہے، اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ کرایہ دار غیر مسلم ہے لہذا یہ معاملہ خلافِ اولی ہوگا حرام یا مکروہِ تحریمی نہیں ہوگا ۔
دلائل کی تفصیل گزر چکی ہے، تکرار موجبِ طوالت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2177
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2177