شے مستعار کو اجارہ پر دینے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #332Urdu

Question

اگر کسی شخص نے کوئی چیز عاریت پر لی، پھر وہ چیز کسی دوسرے کو کرایہ پر دے دی تو یہ کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شے مستعار کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

وليس للمستعير أن يؤاجر ما استعاره فإن آجره فعطب ضمن لأن الإعارة دون الإجارة والشيء لا يتضمن ما هو فوقه ولا نا لو صححنا لا يصح إلا لا زماً لأنه حينئذٍ يكون بتسليط من المعير وفي وقوعه لا زماً زيادة ضرر بالمعير لسد باب الاسترداد إلى انقضاء مدة الإجارة فأبطلناه. (الهداية: ۳/۲۸۰، كتاب العارية).

در مختار میں ہے:

ولا توجر ولا ترهن لأن الشيء لا يتضمن ما فوقه. (الدر المختار: ۵/٦۷۹).

اور اگر کرایہ پر دے دی تو کرایہ لازم نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ اجارہ باطل ہے اور اجارۂ باطلہ میں کرایہ واجب نہیں ہوتا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

بخلاف الثاني وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال. (الدر المختار: ٦/٤٦).

ہاں اگر مالک اجازت دے تو پھر جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
مجلہ میں ہے:

وليس للمستعير أن يؤجر العارية ولا أن يرهنها بدون إذن المعير. (المجلة: ۳/۳۲۵).
"بدون إذن المعير"
سے پتا چلتا ہے کہ اجازت کے ساتھ جائز ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.