شعبان میں مستعفی ہونے پر رمضان کی تنخواہ کا حکم:
Question
اگر مدرس شعبان یا رمضان میں مستعفی ہو جائے تو اس کو رمضان کی تنخواہ ملے گی یا نہیں؟
Answer
مدرسہ کا معاملہ سال کے لیے ہوتا ہے لیکن عرف میں تعلیمی سال مراد ہے اور وہ شعبان کے آخر تک سمجھا جاتا ہے، لہذا معاملہ شعبان کے آخر تک ہوگا، ہاں اگر یہ شرط لگائی گئی ہو یا عرف ہو کہ مدرسہ مدرس کو فارغ کر دے تو رمضان کی تنخواہ دیتا ہے تو پھر تنخواہ دینی چاہیے، عرف کے علاوہ چھٹی استراحت کے لیے ہوتی ہے تاکہ آئندہ سال کے لیے مدرس ذہنی سکون حاصل کر لے، اس لیے رمضان کو آئندہ سال کے ساتھ لگانا معقول ہے، لہذا تعلیمی سال شعبان کے اختتام تک ہوگا ۔
شرح مجلہ میں ہے:
وفي مجمع الحقائق: العادة المطردة تنزل منزلة الشرط، حتى لو باع التاجر في السوق شيئاً بثمن، ولم يصرحا بحلول ولا تأجيل، وكان المتعارف فيما بينهم أن البائع يأخذ من الثمن كل جمعة قدراً معلوماً، انصرف البيع إليه بلا بيان، لأن المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً. (شرح المجلة لمحمد الأتاسي: ۱/۹۵، المادة: ٤۱).
الاشباہ و النظائر میں ہے:
واعلم أن اعتبار العادة والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة، حتى جعلوا ذلك أصلاً، فقالوا في الأصول في باب ما تترك به الحقيقة: تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة، هكذا ذكر فخر الإسلام
ومنها: البطالة في المدارس كأيام الأعياد ويوم عاشوراء وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم، والمسألة على وجهين، فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي. وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة، لأنه يستريح لليوم الثاني، وقيل: لا يأخذ، انتهى. وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال إنه الأظهر (منظومة ابن وهبان: ۱/۲۸۸، فصل من كتاب أدب القاضي) فينبغي أن يكون كذلك في المدارس، لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة. (الأشباه والنظائر: ۱/۲٦۸، ۲۷۲، القاعدة السادسة العادة محكمة).
كذا في رد المحتار: ٤/۳۷۲، مطلب في استحقاق القاضي والمدرس الوظيفة في يوم البطالة، سعيد).
امداد الاحکام میں ہے:
جب اس مدرس نے ماہِ شوال میں آ کر کام نہیں کیا (خواہ کام نہ کرنے کا سبب اس کی طرف سے ہو یا کمیٹی کی طرف سے مگر بہرحال کام نہ کرنا متحقق ہو گیا ) تو وہ رمضان کی تنخواہ کا مستحق نہیں ۔
لأن شرط الاستحقاق هو العمل في شوال ولم يوجد، وإذا فات الشرط فات المشروط بخلاف ما إذا لم يعمل بحصول الرخصة والإذن من المتولي فإنه في حكم العمل كما لا يخفي. والله أعلم
۔ (امداد الاحکام: ۳/۵۷٤) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
تنخواہ تو ایامِ عمل ہی کی ہے مگر تعطیل کا زمانہ تبعاً ایامِ عمل کے ساتھ ملحق ہے تاکہ استراحت کر کے ایامِ عمل میں عمل کر سکے، شعبان کے ختم پر معزول ہو جانے سے تنخواہ نہ ملے گی اور عدمِ عزل میں رمضان کے ختم پر تنخواہ ملے گی بشرطیکہ شوال میں بھی کام کیا ہو ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۳٤۸) ۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
ابتدائے شوال میں آنے کی شرط پر ماہِ رمضان (ایامِ بطالت و استراحت) کی تنخواہ کو مشروط کرنا اب مفسدِ عقد نہیں، کیوں کہ اب یہ شرط معروف ہو چکی ہے، اور خود شیخ المحدثین حضرت سہارنپوری قدس سرہ ٗ نے "فتاوی خلیلیہ" میں اپنے محاکمے میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ: شرطِ معروف قرار دی جائے تو ان سب صورتوں میں مدرس واقعہ متنازع فیہ میں پوری تنخواہ کا مستحق ہوگا ۔ (فتاوی خلیلیہ: ۱/۲٤۸)
اس شرط کا معروف ہونا کئی وجوہات سے واضح ہے، جو درج ذیل ہیں: ۔
(الف) مدارسِ دینیہ میں اس شرط کا معروف ہو جانا محتاجِ بیان نہیں کہ تقریباً سب مدارس اس پر عمل پیرا ہیں ۔
(ب) یہ شرط معروف عند الفقہاء بھی ہے کیوں کہ ایامِ بطالت کی تنخواہ کا استحقاق اسی لیے ہے کہ استراحت کے بعد دوبارہ زیادہ نشاط کے ساتھ کام کر سکے، اگر ایامِ بطالت کے بعد کام کرنے کا ارادہ ہی نہیں تو ایامِ بطالت کی تنخواہ کا استحقاق کیسے ہوگا؟
(ج) یہ شرط مالِ وقف کی حفاظت اور اسے صحیح تر مصرف پر خرچ کرنے کے بھی عینِ مطابق ہے، اس لیے کہ مدارس میں زکوۃ و عطیات کی رقم معطین یا طلباء کی امانت ہے، اس امانت میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ یہ رقم کسی کو بلا عمل یا بلا عوض نہ دی جائے، لہذا عمل موجود ہونا چاہیے موجود ہونا چاہیے (جیسا کہ ایامِ عمل میں ) یا مظنون ہونا چاہیے ہونا چاہیے (جیسا کہ ایامِ استراحت میں جب کہ آئندہ کام کرنے کا ارادہ ہو) ورنہ اجرت کا جواز محلِ نظر ہوگا ۔ از مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مد ظلہ) ؛
فتوی از حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: ۔
شوال میں کام کرنے کو رمضان کی تعطیل کی تنخواہ کے لیے موقوف علیہ قرار دینا اور نہ قرار دینا دونوں امر جائز ہیں، موقوف علیہ قرار نہ دینے کا جواز واضح ہے، کیوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ عقدِ اجارہ میں ایک ماہ کی تنخواہ بلا عمل جو مقرر کی گئی، وہ گویا سارے سال کے مجموعی عمل پر ایک اجرتِ اضافی ہے، جو معلوم ہے، اور فریقین کے اتفاق سے جائز ہے، اور موقوف علیہ قرار دینے کے جواز کی ایک وجہ وہی ہو سکتی ہے جس کی طرف حضرت مولانا خلیل احمد صاحب قدس سرہٗ کے جواب میں اشارہ موجود ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایامِ بطالت کی تنخواہ تجدیدِ عقد کے لیے شرط قرار دی گئی ہے، یعنی اگر شوال میں آئندہ سال کے لیے عقد کی تجدید کی گئی تو ایامِ بطالت کی تنخواہ بھی دی جائے گی، ورنہ نہیں ۔ گویا اس صورت میں عقدِ اجارہ شعبان پر ختم ہو گیا، شوال میں تجدید عقد کے وقت ایامِ بطالت کی تنخواہ اضافی طور پر شوال کے ساتھ دی گئی ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳٦۸، ۳۷۳، ۳۷٤) ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
یہ صحیح ہے کہ رمضان کی تعطیل استراحت کے لیے ہوتی ہے کہ بعد استراحت پھر مستعدی سے کام ہو سکے جیسا کہ عام مدارس میں متعارف ہے اور اس بنا پر آئندہ سال نہ آنے والے مدرسین و ملازمین کو رمضان کی تنخواہ کا استحقاق نہیں ہوتا ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۳۳۲) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی خلیلیہ: ۱/۲٤٤ ۔ ۲٤۸، و فتاوی عثمانی: ۳/۳٦٦ ۔ ۳۷٤، و قاموس الفقہ: ۱/٤۹۷ ۔ ٤۹۸، و جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۳۵، و فتاوی محمودیہ: ۱۵/۵۲۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2197
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2197