اسٹاک ایکسچینج میں بروکری کا حکم:
Question
اسٹاک ایکسچینج میں بحیثیتِ دلال کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اسٹاک ایکسچینج کا مدار ان معاملات پر ہے جن کو ایک دلال انجام دیتا ہے، چنانچہ ایک بروکر بحیثیت دلال شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق کاروبار میں شیئرز بیچنے والوں اور خریدارِ حصص کے درمیان پانچ طرح سے رابطے کا کام دیتا ہے:
(۱) حاضر سودا ۔ یہ خرید و فروخت کی دلالی کا عام اور سادہ طریقہ ہے کہ دلال اپنے تعلقات اور معلومات کی بنا پر کسی شخص سے شیئرز کی قیمت وصول کر کے یا اس وصولی کے لیے آئندہ کوئی تاریخ معین کر کے اس کے لیے کسی شیئرز ہولڈر سے شیئرز خرید کر اس کے حوالے کرتا ہے اور اس دلالی پر اس شخص سے متعین معاوضہ (کمیشن) وصول کرتا ہے ۔
(۲) بعض اوقات خریدار کے پاس رقم نہیں ہوتی تو دلال کمیشن کے حصول کے لیے اس کی طرف سے شیئرز کی قیمت کا کل یا بعض حصہ ادا کر کے اس کے لیے شیئرز خرید کر اس کے حوالے کر دیتا ہے، پھر کچھ دنوں تو خریدار کو قیمت کی ادائیگی کی مہلت بلا سود ہوتی ہے، اس کے بعد دلال اس سے سود وصول کرتا ہے، اسے اصطلاح میں (Sale on Margin) کہتے ہیں ۔
(۳) دلال خریدار کو کمیشن کے لالچ میں غیر مملوک شیئرز بھی فروخت کرتا ہے، محض اس توقع یا یقین پر کہ بعد میں خرید لوں گا ۔ جسے شارٹ سیل کہتے ہیں ۔
(٤) دلال اور خریدار کے درمیان خرید و فروخت سے متعلق معاملے کی نسبت مستقبل کی طرف ہوتی ہے، جسے فارورڈ سیل کہتے ہیں ۔
(۵) دلال سٹا کا معاملہ کرتا ہے ۔ اصطلاح میں فیوچر سیل کہتے ہیں، جس کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے ۔
ان تمام صورتوں میں سے صرف پہلی صورت جائز ہے، بقیہ چاروں صورتیں بیع فاسد، جوا (سٹا) یا سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں ۔
لہذا اسٹاک ایکسچینج میں اگر کوئی بروکر کی حیثیت سے کام کر کے خود کو ان معاملات کا مرتکب ہونے سے بچا سکتا ہے جو ناجائز اور حرام ہیں تو اس کے لیے اس ادارے میں ملازمت جائز ہے اور اگر ممکن نہیں تو حصص کی دلالی کا کام نہ کرے اور خود کو حرام میں مبتلا ہونے سے بچائے ۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
اسٹاک ایکسچینج بازار میں خرید و فروخت کے لیے واسطہ بننے والوں کو بروکر کہتے ہیں جو دورِ حاضر میں شیئرز کی خرید و فروخت اور قیمتوں سے واقفیت رکھتا ہے، اور خرید و فروخت کی کاروائی کا اندراج کرتا ہے، تو ایسے شخص کی حیثیت ایجنٹ اور اجیر مشترک کی ہے، دوسرے لفظوں میں بروکر ہی کو دلال کہا جاتا ہے، اگر ایسے لوگ حلال کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے ایجنٹ اور بروکر کی حیثیت سے کام کریں تو یہ شرعاً جائز ہے، اور ان کی اجرت شرعاً حلال ہو گی ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱٦/۱۲٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (اسلام اور جدید معیشت و تجارت، ص ۱۱۰ ۔ ۱۱۲ ۔ جدید فقہی مباحث: ج ۱٦ ۔ جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۰۸ ۔ و فتاوی عثمانی: ۳/۱۸۵ ۔ ۱۸۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2215
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2215