بلا عقد کرایہ طلب کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #355Urdu

Question

زید نے عمر کی زمین پڑوسی ہونے اور بے تکلفی ہونے کے سبب مدتِ دراز تک استعمال کی عمر نے اس پر کوئی نکیر بھی نہیں کی اور نہ کوئی کرایہ کا معاملہ ہوا پھر عمر کے انتقال کے بعد بھی زید استعمال کرتا رہا لیکن کسی نے کوئی اشکال ظاہر نہیں کیا اور نہ طلب کی، اب حال میں عمر کے بعض ورثاء نے کہا کہ یہ زمین بلا اجازت استعمال کی گئی لہذا گزشتہ سالوں کا کرایہ ادا کیا جائے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا زید پر گزشتہ سالوں کا کرایہ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

زید نے عمر کی زمین بطورِ عاریت استعمال کی اور یہ عرفی اجازت تھی، اور فی الحال بعض ورثاء کا کرایہ طلب کرنا اور یہ دعوی کرنا کہ بلا اجازت استعمال کی گئی ہے یہ بلا دلیل ہے ۔
ولا يثبت الحكم به
یعنی اس بلا دلیل دعوی کا کوئی اعتبار نہیں ۔
مزید براں کوئی عقدِ اجارہ نہیں ہوا تھا بنا بریں کرایہ کا مطالبہ بھی درست نہیں، اس لیے کہ کرایہ کی ادائیگی عقدِ اجارہ کا نتیجہ و ثمرہ ہے اور یہاں عقدِ اجارہ ہوا ہی نہیں ۔
دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
شرحِ مجلہ میں ہے:

المادة: لا يجوز لأحد أن يتصرف في مال الغير إلا بإذنه

ثم الإذن قد يكون صريحاً

وقد يكون دلالة

(شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ۱/۲٦۲، رشيديه).
وفي المحيط البرهاني: في عارية الواقعات: رجل أراد أن يستمد عن محبرة غيره فهذا على ثلاثة أوجه: الأول: أن يستأذنه وفي هذا الوجه له أن يفعل ذلك إلا أن ينهاه.
والثاني: أن يعلمه وفي هذا الوجه له ذلك أيضاً إذا لم ينهه لأنه إذا لم ينهه فهو إذن له دلالة. والثالث: إذا لم يستأذنه ولم يعلمه وإنه على وجهين: إن كان بينهما انبساط فله أن يفعل ذلك لمكان الإذن عرفاً، وإن لم يكن بينهما انبساط ليس له أن يفعل لأنه في الأذن عرفاً تودد. (المحيط البرهاني: ٦/۱٦۳، رشيدية).

عالمگیری میں ہے:

أما تفسيرها شرعاً فهو عقد على المنافع بعوض كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۰۹).
وفي الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: الإجارة في الشرع عبارة عن العقد على المنافع بعوض هو مال، فتمليك المنافع بعوض إجارة، وبغير عوض إعارة. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۳۳۹، دار القلم، دمشق).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.