کھڑے ہو کر وضو کرنے کا حکم:
Question
اس ملک اور دیگر بعض ممالک میں لوگ کھڑے ہو کر وضو کرتے ہیں، اس میں محلِ وضو کی ساخت کی وجہ سے آسانی رہتی ہے تو کیا کھڑے ہو کر وضو کرنا جائز ہے اور بہتر وضو میں بیٹھنا ہے یا کھڑا ہونا؟
Answer
کھڑے ہو کر وضو کرنا جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اصل وضو میں یہ ہے کہ جس انداز سے اعضاء وضو کو دھونے میں آسانی رہے وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے چنانچہ اگر محل وضو کی ساخت کی وجہ سے بعض اعضاء بیٹھ کر اور بعض کھڑے ہو کر دھونا آسان ہو تو ایسا کرنا بہتر ہے کیونکہ اگر کھڑے ہونے کے محل میں بیٹھ کر وضو کیا جائے گا تو دشواری کے ساتھ ساتھ ماءِ مستعمل کپڑوں پر پڑے گا، چنانچہ جب حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کھڑے ہو کر پاؤں دھونا کیسا ہے تو آپ نے رقم فرمایا کہ کھڑے ہو کر پاؤں دھونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ ماءِ مستعمل سے تحفظ کے لیے کھڑے ہو کر پاؤں دھونا بہتر ہے ۔ (فتاوی محمودیہ
۷
/
۱٦
) ۔
نیز الدر المختار میں ہے:
والجلوس في مكان مرتفع تحرزاً عن الماء المستعمل. (الدر المختار ۱/ ۱۲۷)
معلوم ہوا کہ وضو میں ایسی ہیئت اختیار کرنا جس سے آسانی رہے اور ماءِ مستعمل سے بچا جا سکے درست ہی نہیں بلکہ بہتر ہے ۔
بخاری شریف میں ہے:
عن كريب مولى ابن عباس رضي الله عنه أن عبد الله بن عباس رضي الله عنه أخبره أنه بات ليلة عند ميمونة زوج النبي وهي خالته فاضطجعت في عرض الوسادة واضطجع رسول الله ﷺ وأهله في طولها فنام رسول الله ﷺ حتى إذ انتصف الليل أو قبله بقليل أو بعده بقليل استيقظ رسول الله ﷺ فجلس يمسح النوم عن وجهه بيده ثم قرأ العشر الآيات الخواتم من سورة آل عمران ثم قام إلى شن معلقة فتوضأ منها. (صحيح البخاري باب قراءة القرآن بعد الحدث ۱/۳۰)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے لٹ کے ہوے مشکیزہ سے کھڑے ہو کر وضو فرمایا البتہ یہ ملحوظ رہے کہ کھڑے ہو کر وضو کرنا آسانی کی بناء پر جائز ہے لیکن نبی کریم ﷺ کا عمل طریقہ وضو میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بیٹھ کر وضو کرنے کا منقول ہے ۔ چنانچہ ترمذی شریف میں ہے:
"عن أبي حية قال رأيت علياً توضأ فغسل حتى أنقاهما ثم مضمض ثلاثاً واستنشق ثلاثاً وغسل قدميه إلى الكعبين ثم قام فأخذ فضل طهوره فشربه وهو قائم ثم قال: أحببت أن أريكم كيف كان طهر رسول الله ﷺ. (الجامع الترمذي باب في وضوء النبي كيف كان: ۱/۱۷).
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ کا عمل بیٹھ کر وضو فرمانے کا تھا لہذا بیٹھ کر وضو کرنا مستحب ہو گا اور کھڑے ہو کر وضو کرنا جائز ہو گا ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/224
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-224