ترکہ میں ایک وارث کی تجارت کا حکم:
Question
ایک شخص کا انتقال ہو گیا، ترکہ تقسیم نہیں ہوا تھا، مرحوم کے دو بیٹوں نے والد کے کاروبار کو جاری رکھا اور خوب نفع کمایا، اب دس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ترکہ تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کیا تمام ورثاء نفع میں شریک ہوں گے یا فقط مرحوم کے انتقال کے وقت جو کچھ موجود تھا اسی کی تقسیم کی جائے گی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مرحوم کے مال میں تقسیم سے پہلے جو کچھ نفع ہوا ہو سب ورثاء کل مال میں شریک ہوں گے، اگر چہ بقیہ ورثاء مالِ مشترک کی تجارت میں شریک نہ تھے، لیکن نفع میں شریک ہوں گے، اور کل مال مع نفع تمام ورثاء کے درمیان شرعی طریقہ پر تقسیم کیا جائے گا ۔ ہاں اگر کام کرنے والے کو اس کے حصہ سے کچھ زیادہ دے دیا جائے تو مناسب ہے، لیکن شرعاً لازم نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں الاشباہ و النظائر میں ہے:
إذا عمل أحد الشريكين دون الآخر بعذر أو بغيره فالربح بينهما قوله إذا عمل أحد الشريكين
الخ. إنما كان الربح بينهما، لأن استحقاق الربح بحكم الشرط في العقد لا العمل، كما في البزازية في آخر فصل ما يكون للشريك، وقوله بعذر لا يصح تعلقه بالفعل المذكور كما هو ظاهر وليس ثم غيره يصح تعلقه به، وحينئذٍ فالصواب أن يقول كما في البزازية، ويستوي أن يمتنع الآخر بعذر أو بغير عذر، لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه. (الأشباه والنظائر مع غمز عيون البصائر: ۲/ ۹۷).
عبارتِ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایک شریک کام نہ کرے پھر بھی اس کو مشترک مال میں سے پورا حصہ ملے گا، خواہ وہ شریک کام سے معذور ہو یا معذور نہ ہو ۔
وللاستزادة انظر: (المجلة وشرحها لمحمد خالد الأتاسي: المادة: ۱۳۹۲، ۸۳).
یاد رہے اس شرکت کو فقہاء شرکتِ املاک سے تعبیر کرتے ہیں ۔
تبیین الحقائق میں ہے:
شركة الملك أن يملك اثنان عيناً إرثاً أو شراء
وكل أجنبي في قسط صاحبه أي كل واحد منهما أجنبي في نصيب صاحبه حتى لا يجوز له أن يتصرف فيه إلا بإذنه كما لغيره من الأجانب. (تبيين الحقائق شرح الكنز الدقائق: ۳/ ۳۱۳).
شمس الائمہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
فشركة الملك أن يشترك رجلان في ملك مال وذلك نوعان ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما وذلك بقبول الشراء أو الصدقة أو الوصية والحكم واحد وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركاً بينهما بقدر الملك وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه. (المبسوط للسرخسي: ۱۱/ ۱۵۱).
اشکال اور جواب:
اشکال: بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ نفع صرف تصرف کرنے والوں اور عمل کرنے والوں کے ساتھ خاص ہوگا، دوسرے وارثوں کو اس نفع میں سے کچھ نہیں ملے گا، اور دلیل میں عالمگیری کی درجِ ذیل عبارت پیش کرتے ہیں:
لو تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح للمتصرف وحده، كذا في الفتاوى الغياثية. (الفتاوى الهندية: ۲/ ۳۴٦).
اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: عبارتِ مذکورہ بالا دیگر کتبِ فقہیہ کی عبارات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے تصرف کر کے مشترک رقم میں سے کچھ رقم لے لی پھر اس میں تصرف کیا تو وہ نفع اس کا ہوگا ۔ فتاوی محمودیہ میں بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، ملاحظہ ہو: (
۲۰
/
۳۰۹
، مع التعلیقات) ۔
یا اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے اکابر رحمه الله نے اس پر فتوی نہیں دیا ۔ بلکہ اکابر رحمه الله کا فتوی اس کے خلاف ہے ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
عمرو نے مالِ مشترک میں تجارت وغیرہ کر کے جو نفع حاصل کیا ہے اور مال بڑھایا ہے، وہ سب ورثاء پر بھی تقسیم کیا جائے گا صرف عمرو کا ترکہ نہیں سمجھا جائے گا ۔
وعمله وتصرفه يكون تبرعاً ووجهه أنه شريك في بعضه وعامل بنت أخيه في بعضه وهي في عياله، وليس ههنا عقد ولا غصب
۔ (کفایت المفتی:
۸
/
۲٦۹
، کتاب الفرائض) ۔
نیز اسی قسم کا جواب دوسری جگہ بھی مذکور ہے ۔ ملاحظہ ہو: (کفایت المفتی:
۸
/
۲۷٤
، کتاب الفرائض) ۔
فتاوی دار العلوم میں ہے:
جواب: جب زید و عمرو دونوں مشتری اس جائداد مذکور کے ہیں تو دونوں شریک نصف نصف کے ہیں، اور ان کے بعد ان کے ورثاء قائم مقام ان کے ہوں گے، لہذا ورثاء کا مطالبہ شرعاً صحیح اور حق ہے،
في رد المحتار: قوله ولزمه نصف الثمن بناء على أن مطلق الشركة يقتضي التسوية
۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
۱
/
۵۹۷
، کتاب الشرکۃ) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام:
۳
/
۳۱۹
۔
۳۲۲
) ۔
اگر ہم یہ کہیں کہ وارث کا تصرف، اجنبی کے مال میں تصرف کی طرح ہے، اور یہ ناجائز ہے ۔ تو اس کا جواب بھی یہی ہوگا کہ اجنبی کے مال میں تصرف کر کے جو نفع کمایا وہ فقہاء کے ہاں واجب التصدق ہے اور جب مالک معلوم ہو تو مالک کو پہنچا دے، اور ورثاء معلوم ہے، لہذا شرعی حصوں کے مطابق نفع بھی اصل مال کے ساتھ تقسیم ہوگا ۔
فتاوی شامی میں ہے:
وفي القهستاني: وله أن يؤديه إلى المالك ويحل له التناول لزوال الخبث. (فتاوى الشامي: ٦/ ۱۸۹، كتاب الغصب، سعيد).
امداد الاحکام میں ہے:
سوال: وراثت کا روپیہ قبل تقسیم ہونے کے کسی شریک نے بلا اطلاع دوسرے شریک کے کسی کو مضاربت پر دے دیا اور مضارب نے اس میں کچھ تصرف کیا، مال خرید کر بیچا اور نفع بھی ہو گیا تو یہ مضاربت صحیح ہوئی یا نہیں اور جو نفع ہوا ہے مضارب اس میں سے نصف نفع مقررہ لینے کا مستحق ہے یا نہیں؟
الجواب: جس شریک نے مضاربت پر روپیہ دیا ہے نفع مقررہ اس کی ملک تو ہو گیا اس میں فقط اپنے حصہ وراثت کے مطابق اس حلال ہے اور باقی نفع خبیث ہے، اس لیے دوسرے ورثاء کو بقدر ان کے حصص دے دے ۔ (امداد الاحکام:
۳
/
۳۱۹
، کتاب الشرکۃ و المضاربۃ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2266
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2266