بلا اجازتِ راہن رہن کو فروخت کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص کو گھر یا زمین کی ضرورت تھی مگر اس کے پاس پیسے موجود نہیں تھے، اس نے بینک سے رابطہ کیا، بینک والوں نے وہ زمین بطورِ وکیل خرید کر اسے دے دی، معاملہ اقساط پر طے ہوا کہ وہ ماہانہ بینک کو اتنی رقم ادا کرے گا، بینک نے بطورِ رہن کوئی چیز رکھی، یعنی اس چیز کے کاغذات اپنے پاس رکھ لیے، کچھ عرصہ کے بعد اس آدمی نے اقساط ادا کرنا بند کر دیا، بینک نے مطالبہ کیا، اس کے باوجود ادا کرنے سے انکار کر دیا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بینک اس شیٔ کو بیچ کر اپنا حق وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟
بينوا ولكم الأجر الجزيل
۔
Answer
بصورتِ مسئولہ راہن کی اجازت سے بیچنا درست ہے، لیکن بلا اجازت بیچنا درست نہیں ہے ہاں اگر راہن نہ دین ادا کرتا ہے اور نہ بیچنے پر آمادہ ہوتا ہے تو اس کے بارے میں عام طور پر فقہاء یہ تحریر فرماتے ہیں کہ حاکم یا قاضی کے حکم سے بیچنا جائز ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں ہے:
المادة: ۷۵۷ ـ إذا حل أجل الدين وامتنع الراهن عن أدائه، فالحاكم يأمره ببيع الرهن وأداء الدين فإن أبي وعاند باعه الحاكم وأدي الدين. والعهدة على الراهن لا على القاضي (رد المحتار) وهذا قولهما لا نهما يريان الحجر على المديون، ومذهب الإمام تأبيد حبسه إلى أن يبيع الراهن بنفسه، لأنه لا يري الحجر على الحر المديون، وصرح قاضي خان وغيره بأن الفتوى على قولهما
المادة: ۷۵۸ ـ إذا كان الراهن غائباً ولم تعلم حياته ولا مماته فالمرتهن يراجع الحاكم على أن يبيع الرهن ويستوفي الدين. لما في البزازية، عن المنية للمرتهن بيع الرهن بإجازة الحاكم وأخذ دينه، إذا كان الراهن غائباً لا يعرف موته ولا حياته. (شرح المجلة: ۳/ ۲۰۲، الفصل الرابع في بيع الرهن).
قال في الدر المختار: غاب الراهن غيبة منقطعة فرفع المرتهن أمره للقاضي ليبيعه بدينه ينبغي أن يجوز. وفي رد المحتار: بقي ما إذا كان حاضراً وامتنع عن بيعه؛ وفي الولوالجية: يجبر على بيعه، فإذا امتنع باعه القاضي أو أمينه للمرتهن وأوفاه حقه والعهدة على الراهن، ملخصاً، وبه أفتي في الحامدية. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۵۰۲، سعيد).
لیکن چونکہ موجود ہ دور میں یہ صورت ممکن نہیں ہے اگر مقدمہ دائر کریں گے تو کئی سال انتظار کرنا پڑے گا پھر اس کی وجہ سے مقدمہ کے اخراجات عائد ہوں گے، اس لیے بہتر صورت یہ ہے کہ مرتہن خود بیچ کر اپنا دین وصول کر لے اور زائد رقم راہن کو واپس کر دے ۔ جیسا کہ مشتری اگر ثمن ادا نہ کرتا ہو تو بائع کے لیے یک طرفہ طور پر فسخ کر کے اپنا ثمن وصول کرنا جائز اور درست ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ص ۷٦ ۔ ۷۹) ۔
البتہ بینک جب بطورِ رہن کوئی چیز وصول کرتا ہے تو اس کے معاہد ہ میں عام طور پر یہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ اگر راہن دین ادا نہیں کرے گا تو بینک شیٔ مرہون کو فروخت کر کے اپنا حق وصول کرنے کا مجاز ہوگا، اور اس پر راہن کے دستخط لیے جاتے ہیں، لہذا اس دستخط کی وجہ سے گویا راہن نے بینک کو وکیل بالبیع بنا دیا اور وکیل بالبیع کا فروخت کرنا جائز اور درست ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا وكل الراهن المرتهن أو العدل أو غيرهما ببيع الرهن عند حلول الدين فالوكالة جائز ة لأنه توكيل ببيع ماله. (الهداية: ٤/۵۳۸، باب الرهن الذي يوضع على يد العدل).
تبيين الحقائق
میں ہے:
فإن وكل المرتهن أو العدل أو غيرهما ببيعه عند حلول الدين صح، لأن الراهن مالك فله أن يوكل من شاء من الأهل ببيع ماله معلقاً أو منجزاً لأن الوكالة يجوز تعليقها بالشرط لكونها من الإسقاطات لأن المانع من التصرف حق المالك وبالتسليط على بيعه أسقط حقه والإسقاطات يجوز تعليقها بالشروط. (تبيين الحقائق: ٦/۸۱، ط: إمدادية).
بنا بریں بصورتِ مسئولہ بینک شیٔ مرہون کو فروخت کر کے اپنا حق وصول کرنے کا شرعاً مجاز ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2292
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2292