حکومت کے قانون کے تحت مرتہن کا مرہون پر قبضہ کر لینے کا حکم:
Question
اگر راہن نے اپنی زمین مرتہن کے پاس بطورِ رہن رکھی اور طویل مدت (تقریباً بیس سال) تک دین ادا نہیں کیا، تو حکومت کا قانون یہ ہے کہ طویل مدت کے بعد مرتہن زمین کا مالک بن جاتا ہے تو کیا شرعاً مرتہن زمین کا مالک سمجھا جائے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر خاص وقت تک راہن دائن قرضہ ادا نہ کر سکے اور حکومت کے قانون کے مطابق مرتہن رہن کو زبردستی اپنے پاس رکھ کر اس کا مالک بنے یا حکومتی قانون کے ماتحت مقدمہ چلا کر مرتہن مقدمہ جیت لے تو دونوں صورتوں میں مرتہن اس زمین یا چیز کا شرعاً مالک نہیں بنے گا ۔
حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يغلق الرهن له غنمه وعليه غرمه". (رواه ابن حبان في صحيحه، رقم: ۵۹۳٤، قال الشيخ شعيب: رجاله ثقات رجال الشيخين غير إسحاق).
والمراد بقوله عليه الصلاة والسلام: "لا يغلق الرهن" على ما قالوا: الاحتباس الكلي والتمكن بأن يصير مملوكاً له. كذا ذكر الكرخي رحمه الله عن السلف. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/٤٤۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
اشکال اور جواب:
اشکال: ہاں اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ حکومت کے قانون اور استیلاء کی وجہ سے مرتہن مرہون کا مالک بن جانا چاہیے، گویا حکومت کے قانونی غلبہ کی وجہ سے حکومت نے مرتہن کو مالک بنایا جیسے مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے امداد الاحکام (۳/۳۸۲ و ٤۰۲) میں لکھا ہے اور اس کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ پنجم میں گزر چکی ہے، تو اس کا اعتبار کرتے ہوے مرتہن مالک بن جانا چاہیے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقی استیلاء یہاں نہیں آیا یہاں ایسا نہیں جیسے کسی کار کی ڈیوٹی ادا نہیں کی گئی ہو اور حکومت اس پر قبضہ کرے، اور قانونی استیلاء در حقیقت استیلاء نہیں اگر مرتہن چاہے تو مرہون کو واپس کر سکتا ہے، ہاں حضرت تھانوی رحمہ اللہ اور مولانا ظفر احمد تھانوی رحمہ اللہ نے میراث کے مسئلے میں قانونی استیلاء کو حقیقی استیلاء ضرورت اور تالیفِ قلب اور مال کی حفاظت اور بطورِ انتقام حقیقی استیلاء کا درجہ دیا ہے یعنی جب قانون کے ماتحت کافر بیٹا مسلمان باپ کا وارث بنتا ہے تو مسلمان باپ کو بھی کافر بیٹے کا وارث مان لیا گیا ورنہ عجیب بات ہو گی کہ غیر مسلم تو ہمارا مال اڑا لیں اور ہم محروم رہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2294
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2294