قادیانی اور آغا خانی کے ذبیحہ کا حکم:

7 min readFatwa Vol 6 #51Urdu

Question

اگر کسی قادیانی اور آغا خانی نے بسم اللہ پڑھ کر جانور ذبح کیا تو اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہو تو کیا یہ اہل کتاب سے بھی خراب اور ادنی ہیں کہ اہل کتاب کا ذبیحہ جائز ہے اور ان کا حرام، حالانکہ یہ لوگ محمد ﷺ کو رسولِ خدا مانتے ہیں اور اہل کتاب نہیں مانتے، اور اگر جواب اثبات میں ہو تو کیوں؟

Answer

قادیانی، آغا خانی اور خوجہ سب مرتد اور زندیق ہیں اور ان کا ذبیحہ حرام اور ناجائز ہے ۔
علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إذ لا خلاف في كفر المخالف في ضروريات الإسلام من حدوث العالم وحشر الأجساد ونفي العلم بالجزئيات وإن كان أهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير. (رد المحتار: ۱/۵٦۱، سعيد).
عمدة القاري
میں ہے:

واختلفوا في تفسيره (أي الزنديق) فقيل: هو المبطن للكفر المظهر للإسلام كالمنافق وقيل: من لا دين له وقيل: هم طائفة من الروافض تدعي السبائية

واختلف في الزنديق هل يستتاب؟

وقول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله مختلف فيه، فمرة قالا: بالاستتابة ومرة قالا: لا قلت: روي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه قال: إن أتيت بزنديق استبته فإن تاب وإلا قتلته. (عمدة القاري: ۱٦/۲۰۰، باب حكم المرتد والمرتدة، ط: دار الحديث، ملتان).
البحر الرائق
میں ہے:

الزنديق

هو من لا يتدين بدين، وأما من يبطن الكفر والعياذ بالله ويظهر الإسلام، فهو المنافق، ويجب أن يكون حكمه في عدم قبولنا توبته كالزنديق؛ لأن ذلك في الزنديق لعدم الاطمينان إلى ما يظهر من التوبة إذا كان قد يخفي كفره الذي هو عدم اعتقاده ديناً. (البحر الرائق: ۵/۱۲٦، باب أحكام المرتدين، كوئته).

حضرت شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ولا ينجو من الكفر إلا من أكفر ذلك الملحد (أي غلام أحمد القادياني) بلا تلعثم وتردد. (اكفار الملحدين، ص ۱۰، ط: المجلس العلمي).

صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:

ولا تؤكل ذبيحة المجوسي والمرتد. (الهداية: ٤/٤۳٤).
خلاصة الفتاوى
میں ہے:

ولا يؤكل ذبيحة المجوسي والمرتد والمرتدة والوثني. (خلاصة الفتاوى: ٤/۳۰۵، كتاب الصيد والذبائح).

فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی نے عقائد کفریہ اختیار کیے جس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہو گیا، جو شخص بھی اس کے کفریہ عقائد کی تصدیق کرے گا اس کا بھی حکم یہی ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ:
۲
/
۱۱٦
، جامعہ فاروقیہ) ۔
حضرت مولانا یوسف لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
آغا خانی جماعت بھی قادیانی جماعت کی طرح زندیق و مرتد ہے، چنانچہ قرونِ اولی سے لے کر آج تک کے تمام اہل علم ان کے کفر و ارتداد اور زندقہ والحاد پر متفق ہیں ۔ (ادیانِ باطلہ اور صراط مستقیم، ص
۸۹
، لمفتی محمد نعیم صاحب) ۔
آغا خانیوں کا حقیقی کلمہ:

أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً رسول الله وأشهد أن أمير المؤمنين على ولي الله. "يا علي مدد"
ہمارا اسلام ہے ۔ (مکالمہ بین المذاہب، ص
۲۲۹
، مکتبہ فاروقیہ، و ادیانِ باطلہ، ص
۸۸
) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
قادیانیوں کی اولاد (نسلی مرزائی قادیانی) غلام احمد قادیانی کو نبی یا کم از کم مسلمان مانتی ہو تو وہ بھی کافر ہے، ان کا ذبیحہ حرام اور مردار ہونا چاہیے اور مردار ہونا چاہیے، ان کو اہل کتاب کے حکم میں قرار دینا سمجھ میں نہیں آتا ہے ۔ علامہ شامی رحمہ اللہ غالی روافض کو کافر مانتے ہیں، اور ان کو اہل کتاب نہیں سمجھتے تو قادیانیوں کی اولاد کا شمار اہل کتاب میں کیسے ہوگا؟
والظاهر أن الغلاة من الروافض المحكوم بكفرهم لا ينفكون عن اعتقادهم الباطل في حال إتيانهم بالشهادتين وغيرهما من أحكام الشرع كالصوم والصلاة فهم كفار لا مرتدون ولا أهل كتاب. (رسائل ابن عابدين، ص ۳۷۰، ط: سهيل).

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ جواس موضوع پر کافی بصیرت رکھتے ہیں، رد قادیانیت پر کئی رسائل تصنیف فرمائے ہیں، وہ تحریر فرماتے ہیں، ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے:
(۱) جو شخص خود قادیانیت کی طرف مرتد ہوا وہ مرتد بھی ہے اور زندیق بھی ۔
(۲) اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور زندیق بھی ۔
(۳) اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں بلکہ خالص زندیق ہے ۔
(٤) مرتد اور زندیق دونوں واجب القتل ہیں، دونوں سے مناکحت باطل اور دونوں کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے اس لیے کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں ۔ (رسالہ قادیانی ذبیحہ، ص:
۲٤
،
۲۵
) ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱
/
۱۵٤
، مکتبۃ الاحسان دیوبند) ۔
حضرت مفتی رشید صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
معتزلہ کے بارے میں تحریر شامیہ کی بنا پر میں شیعہ کو اہل کتاب کہتا تھا، بعد میں تنبہ ہوا کہ یہ لوگ زندیق ہیں، اس لیے انھیں اہل کتاب میں داخل کرنا صحیح نہیں ۔ (احسن الفتاوی:
۱
/
۸۸
) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
شیعہ، قادیانی، آغا خانی، ذکری، پرویزی، انجمن دینداراں اور اس قسم کے دوسرے فرقے جو کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلم کہلاتے ہیں، اسلام میں تحریف کر کے اپنے عقائدِ کفریہ کو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اس کی اشاعت کرتے ہیں، یہ سب زندیق ہیں ان کا ذبیحہ حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/٤
۰۲
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان گمراہ فرقوں کا ذبیحہ حلال نہیں ہے، ان میں اور اہل کتاب میں فرق یہ ہے کہ اہل کتاب دین سماوی کو تسلیم کرتے ہیں، جب کہ یہ گمراہ فرقے زنادقہ کے حکم میں ہیں کہ اسلام کی پشت پناہی میں اپنے عقائدِ خبیثہ اور تاویلاتِ فاسدہ کے ذریعہ کفر کو در پردہ رکھتے ہیں، اور اسلام کو ظاہر کرتے ہیں، جن کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہونچتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.